سندھ ہائی کورٹ 16

سندھ ہائیکورٹ کی مقدمات میں منشیات کی قانونی اور تسلیم شدہ اصلاحات استعمال کرنے کی ہدایت

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے پولیس اور تحقیقاتی اداروں کو مقدمات میں منشیات کی قانونی اور تسلیم شدہ اصلاحات استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جسٹس فیصل کمال عالم اور جسٹس امجد علی سہتو نے منشیات برآمدگی کے مقدمے میں ملزم کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افتخار حسین کو نیپیئر تھانے کی حدود سے گرفتار کیا گیا، ملزم کے قبضے سے 560 گرام ویڈ برآمد کی گئی۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اقوام متحدہ کے سنگل کنونشن آن نارکوٹک ڈرگز میں ویڈ کی کوئی قانونی تعریف نہیں، قانون صرف کینابس، چرس، بھنگ، گانجا اور دیگر متعین اصلاحات کو تسلیم کرتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ مقدمات اور سرکاری ریکارڈ میں لفظ ویڈ کا استعمال قانونی ابہام پیدا کرتا ہے، فوجداری مقدمات میں قانون میں موجود تکنیکی اصلاحات استعمال کی جانی چاہئیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ کسی مقدمے میں ویڈ جیسی عام بول چال کی اصطلاح استعمال نہ کی جائے اور برآمد منشیات کی شناخت کیمیکل ایگزامنیشن کے مطابق قانونی اصطلاحات سے کی جائے۔عدالت نے کہا کہ چیف سیکرٹری، آئی جی اور ڈی جی اے این ایف افسران کو انتظامی ہدایت جاری کریں۔سندھ ہائیکورٹ نے منشیات کیس میں گرفتار ملزم کی 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت بھی منظور کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں