کراچی (رپورٹنگ آن لائن) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے ملک میں آبادی کے لحاظ سے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں اب ضرورت کے مطابق نئے صوبے بننے چاہئیں۔خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر بنائے گئے تھے، آبادی میں مسلسل اضافے کے باوجود ملک میں نئے صوبے نہیں بنائے گئے۔ نئے صوبوں کا مطالبہ کسی تنظیمی یا سیاسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ صوبے نہ بنانے کے جو اثرات سامنے آئے ہیں، ان پر بھی بات ہونی چاہئے، ہم مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ سیاسی مفادات سے باہر نکل کر سب کو آپس میں مذاکرات کرنے چاہئیں،چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے ملک بھر کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آئیں اس معاملے پر ڈائیلاگ کرتے ہیں، اگر صوبہ بنانا غداری یا غلط تھا تو پھر آئین پاکستان میں یہ شق کیسے درج ہے؟ سندھ کے اندر نئے صوبوں کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ ہجرت کرنے والے بھی اختیاری پاکستانی اور اختیاری سندھی تھے، سندھ کے لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کا محبت سے استقبال کیا، سندھی بھائیوں کی محبت اور استقبال کو ہمیشہ احترام سے یاد رکھیں گے، ہجرت کرنے والوں کو سندھ میں محبت اور احترام ملا، جبکہ سندھ کے شہری علاقوں میں آبادکاری ایک تاریخی حقیقت ہے۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہجرت کرنے والوں کے حقوق اور شناخت کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے، ایم کیو ایم نے سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کیا اور سندھ کے شہری علاقوں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے لوگوں کو ایوانوں میں بھیجا، قومی اسمبلی میں ہمارا معاملہ قائمہ کمیٹی کے پاس جاچکا ہے اور قائمہ کمیٹی نے معاملے پر غور شروع کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ بنیادی حقوق کی فراہمی حکومت، ریاست اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، صوبوں کے قیام کی شق آئین سے نکالنے کے بجائے اس پر عمل ہونا چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کے آئین میں صوبوں کے قیام کی گنجائش رکھی تھی۔
اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نسل در نسل ظلم سہنے والوں نے اسے اپنی تقدیر سمجھ لیا ہے، تاہم ہمارا فرق یہ ہے کہ ہم نے ظالموں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھ کے ہاریوں کو بھی آزادی ملے گی اور عوام اپنے وزیراعلیٰ کو تبدیل کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق پہلے دن 884 ارب روپے دے دیتا ہے، پھر بھی سندھ کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ سندھ کو 18 سال میں 22 ہزار ارب روپے ملے، لیکن 22 ہزار ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود سندھ بدترین حالات کا شکار ہے، سندھ کے عوام کو وسائل کے مطابق بنیادی سہولیات نہیں مل رہیں، اس لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر انتظامی نظام وقت کی ضرورت ہے۔ انتظامی یونٹس کا قیام عوام کو اپنے مسائل حل کرنے کا اختیار دے گا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ موجودہ نظام نے ملک میں مایوس لوگوں کی بڑی تعداد پیدا کردی ہے۔ مایوس ہوکر لوگ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہتھیار اٹھا لیتے ہیں، جبکہ یہی نظام لوگوں کو محروم اور پاکستان سے بدظن کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے ملک کی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی بندوبست ہیں، سندھ کی ایک انچ زمین بھی کسی دوسرے صوبے میں شامل نہیں ہوگی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انتظامی یونٹس بنانا ملک کو تقسیم کرنا نہیں ہے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا وقت کی ضرورت ہے اور لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ ملک چلانے والوں کو اندازہ ہوگیا ہے کہ نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس ناگزیر ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو اختیارات دینے پر اتفاق ہوا تھا۔ وزیراعظم، کابینہ اور دیگر جماعتیں لوکل گورنمنٹ ترمیم پر متفق تھیں، وزیراعظم نے یقین دلایا تھا کہ آئندہ آئینی ترمیم میں یہ معاملہ حل ہوگا، تمام جماعتیں مان گئیں لیکن پیپلز پارٹی نے لوکل گورنمنٹ ترمیم روک دی، حکومت گرانے کے نمبرز رکھنے والی جماعت نے ترمیم کی مخالفت کی۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ مزید انتظامی یونٹس کے قیام کے بغیر پاکستان میں ترقی اور استحکام ناممکن ہے۔ ہر پاکستانی کو سر اٹھا کر جینے کا حق دینا ہوگا، جبکہ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی سے نجات بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ عوام کا احساسِ تحفظ اور محرومی ختم کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اگر اسٹیٹس کو ختم نہ کیا گیا تو ملک میں جگہ جگہ بغاوت جنم لے گی، جبکہ ریاست سے بیگانگی اور محرومی ملک کے لیے خطرناک ہے، چاروں صوبوں میں بدحکمرانی اور کرپشن کا مسئلہ موجود ہے۔ بہتر حکمرانی اور مضبوط انتظامی یونٹس ہی ملکی ترقی کی بنیاد ہیں۔فاروق ستار نے کہاکہ کراچی پورے پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے۔ کراچی پاکستان کے ٹیکس اور محصولات کا 60 فیصد دیتا ہے، جبکہ کراچی صوبے کو 90 فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 55 فیصد برآمدات کراچی سے ہوتی ہیں، لیکن کراچی 18 سال سے بدترین حکمرانی اور کرپشن کی زد میں ہے۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے معاشی مرکز کو اس کے جائز حقوق اور اختیارات ملنے چاہییں، کیونکہ بہتر حکمرانی اور مضبوط انتظامی یونٹس ہی ملک کی ترقی کی بنیاد ہیں۔









