بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے صدر شی جن پھنگ کے یکم سے 2 ستمبر تک مصر کے سرکاری دورے کو مصر کے مختلف حلقوں نے انتہائی مثبت قرار دیا ہے۔
اس دورے کے دوران متعدد اہم نتائج حاصل ہوئے، جو چین اور مصر کے تعلقات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پھنگ کے اس دورے نے نہ صرف چین-مصر تعلقات کے مستقبل کے لیے سمت متعین کی ہے بلکہ چین اور مصر، چین اور عرب ممالک نیز چین اور افریقہ کے درمیان روایتی دوستی کو بھی مزید آگے بڑھایا ہے اور گلوبل ساؤتھ کے اتحاد اور تعاون کے لیے نئی اور مضبوط قوت فراہم کی ہے۔
صدر شی جن پھنگ کی پیش کردہ پانچ تجاویز نے جن میں “ایک دوسرے کی بھرپور حمایت “، “باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے فروغ “، “عوامی اور ثقافتی تبادلوں کو بڑھانا “، “سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط کرنا ” اور “بین الاقوامی و کثیرالجہتی تعاون کو وسعت دینا ” شامل ہیں، چین اور مصر کے تعلقات کی آئندہ ترقی کے لیے واضح سمت متعین کی ہے۔
دورے کے دوران صدر شی جن پھنگ نے “مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے نئے ڈھانچے کی تشکیل ” کے حوالے سے چار تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے زور دیا کہ “خطے کی مشترکہ سلامتی کے اندرونی محرکات کو فعال کیا جائے “، “خطے کی مشترکہ سلامتی کے لیے جامع طرزِ حکمرانی کو آگے بڑھایا جائے “، “خطے کی مشترکہ سلامتی کے لیے ترقی کی مضبوط بنیاد قائم کی جائے ” اور “خطے کی مشترکہ سلامتی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے “۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ چار تجاویز مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے نئے ڈھانچے کی تشکیل کے راستے اور سمت کو واضح کرتی ہیں۔ یہ تجاویز صدر شی جن پھنگ کی جانب سے اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ اور فروغ کے لیے پیش کردہ چار نکاتی تجاویز کا تسلسل ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں کے سیاسی حل کے لیے ایک بار پھر چینی دانش اور چینی حل فراہم کرتی ہیں۔








