لاہور (رپورٹنگ آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت نے زمان پارک میں اسلام آباد پولیس پر حملے سے متعلق مقدمے میں صنم جاوید کی بہن فلک جاوید کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پراسیکیوشن کی استدعا پر مقدمے کا ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت 10اگست تک ملتوی کر دی۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ملک عابد حسین نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سرکاری وکیل سے ضمانت کی درخواست پر دلائل طلب کر لیے جبکہ پراسیکیوشن کو مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔دورانِ سماعت ملزمہ کے وکیل نے اعلی عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ فلک جاوید خاتون ہیں اور قانون کے مطابق انہیں ضمانت پر رہائی دی جانی چاہیے۔ وکیل نے مزید کہا کہ مقدمے کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے، اس لیے ملزمہ کو مزید جیل میں رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔فلک جاوید نے جیل سے اپنے وکیل کی وساطت سے بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔
وہ اس مقدمے میں اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید زمان پارک میں اسلام آباد پولیس کے افسران پر حملے کے مقدمے میں نامزد ہیں۔ ان کے مطابق ملزمہ سے ایک پیٹرول بم بھی برآمد ہوا تھا۔سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد پولیس بانی پی ٹی آئی کی رہائش گاہ پر عدالتی سمن کی تعمیل کے لیے گئی تھی، جہاں مشتعل کارکنوں نے پیٹرول بم پھینکے اور پولیس افسران کو زخمی کیا۔یاد رہے کہ پولیس پر حملے کا مقدمہ تھانہ ریس کورس میں مقدمہ نمبر 410/23کے تحت درج ہے، جس کی مزید سماعت 10اگست کو ہوگی۔









