عدالت 8

ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد محکماتی انکوائری ختم کرنا قانونی حق ہے’ لاہور ہائیکورٹ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے حق میں اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد محکماتی انکوائری خود بخود ختم ہو جاتی ہے اور دو سال کی مدت پوری ہونے پر انکوائری کا خاتمہ ملازم کا قانونی حق ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پیڈا ایکٹ 2026ء کی ترمیم کا ماضی سے اطلاق نہیں ہو سکتا جبکہ ترمیمی قانون صرف آئندہ کے معاملات پر نافذ ہوگا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر قانون میں واضح طور پر ذکر نہ ہو تو نئی ترمیم کو ماضی کے مقدمات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا لہٰذا ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد انکوائری ختم ہونے کا قانون برقرار رہے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انکوائریاں بروقت مکمل نہ ہونے کا خمیازہ ریٹائرڈ ملازم نہیں بھگت سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پیڈا ایکٹ میں 25فروری 2026 ء کی ترمیم کے باوجود پرانے مقدمات ختم تصور ہوں گے۔عدالت نے سابق سی ای او ہیلتھ نارووال ڈاکٹر خالد جاوید کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی روکی گئی پنشن فوری جاری کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے پیڈا ایکٹ کے تحت جاری انکوائری اور پنشن روکنے کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا۔فیصلے کے مطابق محکمہ صحت نے 2022ء سے زیر التواء انکوائری کی بنیاد پر ڈاکٹر خالد جاوید کی پنشن روک رکھی تھی۔ عدالت نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر خالد جاوید کو پنشن کے تمام واجبات فوری ادا کیے جائیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو اہم قانونی نکتے پر عدالتی نظیر بھی قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں