محمد جاوید قصوری 24

حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ہر چیز کی قیمت دوگنا کر دی ہے، آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں اور دیگر اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دراصل عوام دشمن پالیسیوں کا تسلسل ہے جس نے مزدور، کسان، تنخواہ دار طبقے اور چھوٹے تاجروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بجلی صارفین سے گزشتہ تین برسوں کے دوران 19 کھرب روپے کے ٹیکسوں کی وصولی اور صرف ایک سال میں 7 کھرب روپے کا ظالمانہ بوجھ غریب عوام پر ڈالنا لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکمران عوام سے مہنگی بجلی، اضافی ٹیکسوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ذریعے زندگیاں اجیرن بنا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ملک کو مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ موجودہ مالی سال کے دوران پاکستان نے بیرون ملک سے 6 ارب 59 کروڑ ڈالر کا نیا قرض حاصل کیا، جبکہ آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر اور سعودی عرب سے ملنے والے 3 ارب ڈالر کے نئے ڈیپازٹس اس کے علاوہ ہیں۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ فارم 47 کی بنیاد پر قائم حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ حکمران اشرافیہ اپنی مراعات اور پروٹوکول میں کمی کرنے کے بجائے سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال رہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی پر عائد ظالمانہ ٹیکس فوری طور پر ختم کیے جائیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں حقیقی تبدیلی، دیانت دار قیادت اور سود و قرض سے پاک معیشت کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے اور لاکھوں افراد جماعت اسلامی کے قافلے میں شامل ہو رہے ہیں۔ عوام ملک کو کرپشن، مہنگائی اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی، فلاحی اور خودمختار ریاست بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں