سولر مارکیٹ 8

بجٹ میں ٹیکس بڑھنے کی صورت میں سولر پینلز کی قیمت میںفی واٹ 8 سے 15 روپے اضافے کا امکان

لاہور( رپورٹنگ آن لائن) سولر مارکیٹ کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح میں8فیصد اضافے کی وجہ سے قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑیگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔ماہرین کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ماہرین کے مطابق ٹیکس بڑھنے سے سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دبا ئوکی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں