کانفرنس 19

اے آئی کے چیلنجز تکنیکی حدود سے کہیں آگے نکل چکے ہیں، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) 2026ء کی ورلڈ انٹیلیجنس کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں چین نےاے آئی گورننس کے لیے اپنا موقف پیش کیا: انسانیت پرستی اور بھلائی و خیر کے اصولوں کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہوئے،اے آئی کو مشترکہ خوشحالی اور اجتماعی تحفظ کے فروغ کے لیے ایک اہم محرک بنانا، اور منصفانہ و معقول عالمی اے آئی گورننس نظام کی تعمیر کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنا۔

سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی صارفین پر کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا کہ 85.4 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی عالمی سلامتی اور گورننس کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے؛ 92.6 فیصد افراد کو ڈیپ فیک اور جعلی معلومات تیار کرنے والی ٹیکنالوجیز کے باعث سماجی اعتماد کی بنیادوں کے کھوکھلے ہونے کا خدشہ ہے؛ جبکہ 87.8 فیصد لوگ اس امر سے پریشان ہیں کہ ٹیکنالوجی کی رکاوٹیں اور “ڈیجیٹل دیواریں” عالمی سائنسی و تکنیکی تعاون کو تقسیم کریں گی۔ یہ تینوں اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ اے آئی کے چیلنجز تکنیکی حدود سے کہیں آگے نکل چکے ہیں، اور عالمی گورننس کو بہتر بنانا اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے پیدا کرنا، اب ذہین دور کا مشترکہ تقاضا بن چکا ہے۔

اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 82.6 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ اے آئی گورننس میں ترقی پذیر ممالک اور “گلوبل ساؤتھ” کے ممالک کو قواعد و ضوابط کی تشکیل میں زیادہ مؤثر طریقے سے شامل کیے بغیر نظام کی منصفانہ اور جامع نوعیت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح، 87.5 فیصد افراد کی توقع ہے کہ عالمی برادری اے آئی کو سب کے لیے فائدہ مند اور شمولیت پر مبنی سمت میں لے جانے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے، تاکہ ٹیکنالوجی ایک نیا طبقاتی آلہ نہ بن جائے۔

یہ نتائج نہ صرف عالمی عوام کی اے آئی گورننس سے متعلق مشترکہ امیدوں کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ یہ بات بھی واضح کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی اجارہ داری کے بجائے کھلی شراکت داری، اور قواعد کی رکاوٹوں کے مقابلے میں جامع اشتراک، اب ایک وسیع تر بین الاقوامی اتفاقِ رائے بنتا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں