وفاقی وزیر خزانہ 9

ایران امریکا معاہدے کے وفاقی بجٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے،وزیر خزانہ

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن )وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایران امریکا معاہدے کے بعد معاشی اہداف میں بہتری کی توقع ہے، لیکن بجٹ تخمینوں میں تبدیلی ابھی قبل از وقت ہوگی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان مزید عالمی بانڈز کے اجرا کا خواہاں ہے، ایران جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان 2027 کےلئے اپنی معاشی بہتری دیکھ رہا ہے، تاہم بجٹ میں فوری تبدیلی کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ جنگ کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، سپلائی چینز کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا، اس تنازع نے مہنگائی کو دوبارہ دو ہندسوں میں پہنچا دیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مالی سال 2027 کے بجٹ میں معاشی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے، اگلے سال مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے، دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ کرکے انہیں 3 ہزار ارب روپے تک بڑھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کو برقرار رکھنے کےلئے زیادہ ٹیکس آمدن پر انحصار کیا گیا ہے، کمرشل قرضوں سے قرض دہندگان کا پروفائل تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ کچھ دوطرفہ قرضوں کی جگہ کمرشل قرضے لے سکیں، ہمارا مقصد بیرونی قرضوں کے حجم میں اضافہ کرنا نہیں ہے، پاکستان نے گزشتہ ماہ یو اے ای کے 3.4 ارب ڈالر کے ڈپازٹس واپس کیے، اس کے ساتھ ساتھ اماراتی کمرشل بینکوں سے بھی معاونت حاصل کی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان مزید پانڈا بانڈز، یورو بانڈز، امریکی ڈالر بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، بانڈز کے حجم کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے، اگلے مالی سال میں 2.82 ارب ڈالر کی کمرشل اور یورو بانڈ فنانسنگ کا تخمینہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر کے مساوی پانڈا بانڈز کے اجرا کی منظوری بھی حاصل ہے، 25 کروڑ ڈالر کے پہلے پانڈا بانڈ اجرا کو 95 فیصد ضمانت حاصل تھی۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کرپٹو کرنسی، ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینجز کو پہلے ریگولیٹ کرے گی، اس کے بعد ان پر ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں