بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چینی صدر شی جن پھنگ نے نئی دہلی میں 18ویں برکس سمٹ کے دوسرے مرحلے کے اجلاس میں شرکت کی اوراجلاس سے “برکس تعاون کی بنیاد مستحکم بنائیں اورگلوبل ساؤتھ کو مضبوط کریں” کے عنوان سے اہم خطاب کیا۔
اتوار کے روزصدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ اس وقت مختلف خطرات اور چیلنجز یکے بعد دیگرے سامنے آرہے ہیں۔ برکس ممالک کو گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ متحد ہوکر بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو مشترکہ طور پر برقرار رکھنا چاہیئے، خود مختاری کی مساوات، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل سمیت بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کا تحفظ کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بین الاقوامی قوانین و ضوابط کا یکساں اور بغیر کسی دوہرے معیار کے اطلاق ہو۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ “گریٹربرکس تعاون” کی ترقی کے حصول کے لئے عملی تعاون کی بنیاد کو مضبوط بنانا ضروری ہے ۔ انہوں نے برکس تعاون کو گہرا کرنے کے لیے پانچ تجاویز پیش کیں۔
پہلی اوپن سورس اور جامع فوائد پر مبنی مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ چین پہل کرتے ہوئے برکس اے آئی اوپن سورس زون قائم کرے گا۔ دوسری، تجارت اور سرمایہ کاری میں مزید سہولیات فراہم کی جائیں۔ چین آئندہ سال برکس سروسز ٹریڈ فورم کی میزبانی کرے گا۔ تیسری، ڈیجیٹل صنعت میں تعاون کو فروغ دیا جائے. چین برکس ڈیجیٹل انڈسٹری کلاؤڈ پلیٹ فارم کے قیام کو فروغ دے گا۔ چوتھی، اسمارٹ مینوفیکچرنگ کوآپریشن کو فروغ دیا جائےاور پانچویں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ٹیلنٹس کو فروغ دیا جائے۔ چین برکس یوتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انوویشن ایکسچینج پروگرام نافذ کرے گا۔
چینی صدر شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ رواں سال چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا پہلا سال ہے۔ 15 واں پانچ سالہ منصوبہ نہ صرف چین کا اپنا ترقیاتی خاکہ ہے بلکہ دنیا کے ساتھ تعاون کے مواقع کی فہرست بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے اعلیٰ سطحی کھلے پن کو وسعت دیتا رہے گا، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز کو نافذ کرے گا، اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو فروغ دے گا، دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ ترقی کے مواقع کا اشتراک اور مشترکہ خوشحالی پیدا کرے گا، اور گلوبل ساؤتھ میں مشترکہ طور پر اتحاد اور خود انحصاری کا ایک نیا باب رقم کرے گا۔








