ہائیکورٹ 11

ازدواجی استحصال کو باقاعدہ فوجداری جرم قرار دینے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے’ لاہور ہائیکورٹ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کے ازدواجی استحصال سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے بیوی کو قرض کے بدلے دوسرے مرد کے پاس بھیجنے کے الزام میں گرفتار شوہر کی ضمانت منظور کرلی۔جسٹس محمد امجد رفیق نے 13 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیاجسے عدالتی نظیر قراردے دیاگیا۔فیصلے کے مطابق پاکستان پینل کوڈ میں ازدواجی استحصال کا کوئی مخصوص جرم موجود نہیں،شوہر کی جانب سے بیوی کو ناجائز تعلقات پر مجبور کرنے کے مختلف پہلوئوں پر قوانین لاگو ہو سکتے ہیں۔

فیصلے کے مطابق ازدواجی استحصال کو باقاعدہ فوجداری جرم قرار دینے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے،خواتین کے تحفظ کے لئے پارلیمنٹ ازدواجی استحصال سے متعلق قانون متعارف کرائے،طویل تاخیر، میڈیکل و ویڈیو شواہد کی عدم دستیابی اورشریک ملزم کی ضمانت پر ملزم کو رعایت دی گئی۔ ملزم محمد اجمل کی 5لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظورکی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں