طاہر حسین اندرابی 8

آبنائے ہرمز پر پیش رفت سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی، ترجمان دفترِ خارجہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر پیش رفت سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی،پاکستان خطے میں امن کے لیے برادر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی تعاون جاری رکھے گا،غزہ میں امن فوج سے متعلق کوئی باضابطہ تجویز سامنے آئی تو پاکستان جائزہ لے گا،پاکستان بنگلادیش کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اتفاق رائے سے اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک پر عمل آگے بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کی بحالی کی حمایت کرتا ہے، پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان، قطر، عمان اور دیگر برادر ممالک خطے میں امن کے لیے مربوط سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز کے بحران میں برادر ممالک نے مشترکہ سہولت کاری کا موثر کردار ادا کیا۔طاہر اندرابی نے کہا کہ عمان نے آبنائے ہرمز کے تنازع میں مثبت اور قابلِ تحسین کردار ادا کیا، پاکستان خطے میں امن کے لیے برادر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔

انہوںنے کہاکہ ایرانی وزیرِ خارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کو بھی دعوت دی گئی یا نہیں، تصدیق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن کے لیے حماس کے غیر مسلح ہونے کے ساتھ اسرائیل کا مقبوضہ علاقوں سے انخلا بھی لازمی ہے، اسرائیل پر اپنی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری کرنے اور غزہ سے انخلا کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ غزہ میں امن فوج یا امن نافذ کرنے والی فورس کی تعیناتی پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے، غزہ میں امن فوج سے متعلق کوئی باضابطہ تجویز سامنے آئی تو پاکستان جائزہ لے گا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ بنگلادیش کی سابق وزیرِ اعظم کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے، پاکستان بنگلادیش کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، بنگلادیش کے سیاسی معاملات پر پاکستان کا کوئی موقف نہیں۔انہوںنے کہاکہ باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، تجارتی بحری جہازوں پر حملے بین الاقوامی قانون اور بحری سلامتی کی خلاف ورزی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی تجارتی بحری راستوں کے تحفظ اور سلامتی کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بدستور جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں