لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ مہنگائی، پٹرولیم لیوی اور حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے لاہور سمیت ملک بھر میں 34ویں روز بھی جاری ہیں،لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ، چترال، راولپنڈی، سرگودھا، گجرات اور حیدرآباد سمیت 45 سے زائد مقامات پر جاری احتجاجی دھرنوں میں عوام الناس کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے جبکہ خواتین اور نوجوانوں کی بھرپور شرکت عوامی تشویش اور معاشی مسائل کے خلاف شعور کی عکاسی کرتی ہے۔
وہ اسلام آباد لانگ مارچ کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں لانگ مارچ کے مجموعی انتظامات، تیاریوں اور مختلف شعبہ جات کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں جماعت اسلامی کے دیگر ذمہ داران بھی شریک ہوئے اور لانگ مارچ کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے مختلف امور پر مشاورت کی گئی۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ جماعت اسلامی گزشتہ ایک ماہ سے زائد عر صے سے ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی، پٹرولیم لیوی، عوام پر عائد اضافی ٹیکسز اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ مختلف مقامات پر احتجاجی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں عوام کو معاشی مسائل کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔
احتجاجی سرگرمیوں کے دوران جلسہ عام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ بڑی اسکرینوں کے ذریعے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کے خطابات عوام تک پہنچانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج صرف ایک دن یا چند مقامات تک محدود نہیں بلکہ عوام کے بنیادی معاشی حقوق کے حصول کے لیے ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ جماعت اسلامی حکمرانوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ عوام کو مہنگائی سے حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے، پٹرولیم لیوی اور اضافی مالی بوجھ کا خاتمہ کیا جائے اور ایسی معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جن سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔اجلاس میں اسلام آباد لانگ مارچ کے حوالے سے طے شدہ انتظامات پر بھی غور کیا گیا۔
منصوبے کے مطابق کراچی سے ٹرین مارچ کا آغاز ہوگا، سکھر، ملتان سے ہوتا ہوا 22ستمبر کو لاہور پہنچے گا ، ملتان سے روڈ کارواں کی صورت میں لاہور کی طرف روانگی ہوگی، جبکہ لاہور میں قیام کے بعد 23 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ روانہ ہوگا۔محمد جاوید قصوری نے جماعت اسلامی کے کارکنان اور ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ لانگ مارچ کے انتظامات کو مؤثر انداز میں مکمل کریں اور عوامی رابطہ مہم کو مزید وسیع کریں۔ عوامی مسائل کے حل اور معاشی انصاف کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔









