ڈاکٹر حافظ حسن احمد 19

گھی، تیل اور دودھ کے معیار پر سوال

تحریر: ڈاکٹر حافظ حسن احمد

ہم روزانہ گھی، کوکنگ آئل اور دودھ خریدتے ہیں، مگر کیا ہمیں یقین ہے کہ یہ اشیا مقررہ معیار کے مطابق ہیں؟ پیکنگ، مشہور برانڈ اور زیادہ قیمت بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ مصنوعات کا معیار درست ہے۔ صارف کے لیے یہ جاننا آسان نہیں کہ خریدی گئی چیز میں غذائی اجزا مطلوبہ مقدار میں موجود ہیں یا نہیں۔

اگست 2026 میں وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا۔ پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) کی جانچ میں گھی، کوکنگ آئل اور دودھ کی پیک شدہ مصنوعات کے 491 نمونوں میں سے 176 مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے۔ یعنی تقریباً 36 فیصد نمونوں میں خامیاں سامنے آئیں۔ بناسپتی گھی کے 204 نمونوں میں سے 98، بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 146 میں سے 40 اور پیک شدہ دودھ کے 104 میں سے 26 نمونے معیار پر پورے نہیں اترے۔ دودھ کے پاؤڈر کے 18 نمونوں میں سے آٹھ میں بھی خامیاں پائی گئیں۔

جانچ میں بعض بناسپتی گھی کے نمونوں میں ٹرانس فیٹس کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ تھی، جبکہ بعض میں وٹامن اے موجود نہیں تھا۔ ٹرانس فیٹس کا زیادہ استعمال خون میں نقصان دہ کولیسٹرول بڑھانے اور مفید کولیسٹرول کم کرنے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ وٹامن اے نظر، مدافعتی نظام اور جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہے؛ اس کی طویل مدتی کمی بینائی، خصوصاً کم روشنی میں دیکھنے، اور انفیکشن سے بچاؤ کو متاثر کر سکتی ہے۔ پیک شدہ دودھ کے بعض نمونوں میں چکنائی اور دودھ کے پاؤڈر میں پروٹین کی مقدار مقررہ معیار سے کم تھی۔ چکنائی جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے اور بعض وٹامنز کے جذب میں مدد دیتی ہے، جبکہ پروٹین جسم کی نشوونما اور جسمانی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ان اجزا کی کمی خوراک کی غذائی قدر کو کم کر سکتی ہے، خصوصاً جب دوسری غذاؤں سے ان کی مناسب مقدار حاصل نہ ہو۔

یہ نتائج خوراک کے معیار کی نگرانی کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ مذکورہ جانچ پیک شدہ مصنوعات پر مشتمل تھی، اس لیے کھلے دودھ، گھی اور تیل کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے بھی الگ جانچ ضروری ہے۔ حکومت اور صوبائی فوڈ اتھارٹیز کو چاہیے کہ مصنوعات کے نمونے باقاعدگی سے لیں، لیبارٹری نتائج عوام کے سامنے شائع کریں اور مقررہ معیار کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

صارف ہر خریدی گئی چیز کو خود لیبارٹری میں جانچ نہیں سکتا۔ یہ ذمہ داری ان اداروں کی ہے جنہیں خوراک کے معیار کی نگرانی سونپی گئی ہے۔ عوام کو صرف یقین دہانیوں کی نہیں، معیاری خوراک اور مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔ گھی، تیل اور دودھ ہماری روزمرہ خوراک کا حصہ ہیں، اس لیے ان کا معیار محض تجارتی معاملہ نہیں بلکہ عوامی صحت سے جڑا ہوا سوال ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں