لاہورہائیکورٹ

گورنرپنجاب نئے وزیراعلی سے حلف نہ لے کر اور نمائندہ مقررنہ کرکے آئین سے انحراف کر رہے ہیں، لاہورہائیکورٹ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہورہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کا حلف لینے کے فیصلے کی وجوہات جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ حلف اللہ کے نام پر لیا جاتا ہے نہ کہ گورنر کے نام پر، آئینی مینڈیٹ کے تحت صوبائی حکومت تشکیل نہیں دی جا رہی، گورنرپنجاب نئے وزیراعلی سے حلف لینے سے گریز کررہے ہیں، گورنرپنجاب نئے وزیراعلی سے حلف نہ لے کر اور نمائندہ مقررنہ کرکے آئین سے انحراف کر رہے ہیں

تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کا حلف لینے کے فیصلے کی وجوہات جاری کردیں جس میں کہا گیا کہ آئینی مینڈیٹ کے تحت صوبائی حکومت تشکیل نہیں دی جا رہی۔ لاہورہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ گورنرپنجاب نئے وزیراعلی سے حلف لینے سے گریز کررہے ہیں۔ گورنر پنجاب کے حلف نہ لینے کی وجہ سے اس درخواست میں صدر مملکت پر سوالات اٹھائے گئے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حلف اللہ کے نام پر لیا جاتا ہے نہ کہ گورنر کے نام پر جو صرف ایک انتظامی کام کررہا ہے۔ گورنرپنجاب نئے وزیراعلی سے حلف نہ لے کر اور نمائندہ مقررنہ کرکے آئین سے انحراف کر رہے ہیں۔ ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ نئے وزیراعلی کے انتخاب سے 9 روز گزرنے کے باوجود حلف سے گریزکیا جا رہا ہے۔

وزیراعلی کے انتخاب کو تاحال چیلنج نہ کیا جانا عدالت نے نوٹ کیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ گورنروزیراعلی کا حلف نہ لینے کا تو کہہ سکتے ہیں مگر نمائندہ مقررکرنا آئین کی منشا ہے۔ عدالت نے معاملے کو حل کیلئے 22 اپریل کو فیصلہ صدر مملکت کو بھجوایا تھا جو ابھی تک زیر التوا ہے۔ تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ صوبائی حکومت کے فعال نہ ہونے سے صدر مملکت کا قابل احترام آفس عوام کا اعتماد تباہ کر دے گا۔ صدر اور گورنر کی ناکامی کے بعد عدالت آئین کی محافظ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کو اختیار ہے کہ وہ آرٹیکل 255 کے تحت حلف لینے کی ہدایات جاری کرے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے درخواست کے قابل اعتراض ہونے کی دلیل کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ وزیراعظم کا صدر کو حلف لینے کے مشورے کے خطوط کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ فیصلے میں پنجاب اسمبلی کی توڑ پھوڑ اور انتخابات کیسے ہوئے اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے جبکہ فیصلے میں حمزہ شہباز کے حلف لینے کے پہلے حکم اور انٹرا کورٹ اپیل کا بھی تفصیلی ذکر موجود ہے۔