مریم اورنگزیب

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،یاسین ملک کے کیس کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا، مریم اورنگزیب

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہم اس سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، مودی نے 5اگست 2018 کو غیر قانونی قانون منظور کیا، ہم نے ہر سطح پر اس کی مذمت کی، کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں،

یاسین ملک کے کیس کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا، حریت رہنما یاسین ملک نے اپنی پوری زندگی کشمیر کاز کے لئے وقف کی، ہفتہ کو اسیر حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ بھارت نے پرامن حریت لیڈر یاسین ملک پر جھوٹے مقدمات بنائے،دہشت گردی کے جعلی مقدمات بنا کر بھارت نے یاسین ملک پر 19مئی کو فرد جرم عائد کی، میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں 25مئی کو سزا سنائی جائے گی، بھارت یاسین ملک کو سزائے موت یا عمر قید سزا سنانا چاہتا ہے، یاسین ملک پر آج تک کسی بھی منفی سرگرمی کا الزام نہیں لگا، مریم اورنگزیب نے کہا کہ مشعال ملک ستمبر 2014 میں یاسین ملک سے ملیں، اس وقت ان کی بیٹی کی عمر دو سال تھی، یاسین ملک کی کشمیر کاز کے لئے لازوال قربانیاں ہیں،

تہار جیل سے ان کی جاری ہونے والی ویڈیو میں وہ ایک ہی بات بول رہے ہیں کہ انہیں بولنے کی اجازت دی جائے، وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت کو خوف نہیں تو وہ ایک شخص کے بولنے سے کیوں گھبرا رہا ہے، بھارت یاسین ملک کے فری ٹرائل سے کیوں گھبرا رہا ہے؟، بھارت کھلم کھلا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، وزیراعظم نے یاسین ملک کے مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھانے کی ہدایت کی ہے، یاسین ملک کے خلاف بھارت میں منظم مہم چلائی جا رہی ہے، بھارت مذہبی کارڈ کے ذریعے کشمیریوں کے اندر تقسیم پیدا کرنے کی ناکام اور بھونڈی کوشش کر رہا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کشمیری عوام بھارتی غنڈہ گردی اور بربریت کے خلاف نہ کبھی غلام بنے ہیں اور نہ بنیں گے، بھارت نے سید علی گیلانی کا جنازہ پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی تھی، و، بھارت کو سید علی گیلانی کے جسد خاکی سے بھی خوف تھا، آج ان کی قبر پر بھی پہرا ہے، ہندوستان چاہتا ہی نہیں کہ کشمیر میں پرامن آزادی ہو، آزادی کی آواز بلند کرنے والے یاسین ملک کو فری ٹرائل دینے سے روکا جا رہا ہے، عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت کی کھلم کھلا عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے،

وزیراعظم نے وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کو ہدایت جاری کی ہے کہ یاسین ملک کے مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے، مقبوضہ کشمیر کے شہدا مقبول بٹ، افضل گیلانی اور سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کرتی ہوں، سید علی گیلانی نے کشمیریوں کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کی، آسیہ اندرابی، عمر فاروق بھی جیل میں ہیں، انہیں بھی ٹرانسپرینٹ ٹرائل تک رسائی نہیں دی جا رہی، اشرف صحرائی کو جیل میں زہر دے کر مارا گیا، مقبو ضہ کشمیر میں میڈیا بلیک آﺅٹ ہے، وہاں کسی کی آواز باہر نہیں آنے دی جا رہی، جو حریت رہنما جیل میں ہیں ان کی آواز بھی باہر نہیں آنے دی جا رہی،، مودی حریت رہنماﺅں سے شدید خوف میں مبتلا ہیں، اسی وجہ سے وہ بھارت میں فاشزم پر مبنی کارروائیاں کر رہے ہیں، عالمی برادری کو بھارت کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہئے، مشعال ملک کی یاسین ملک سے بات نہیں کروائی جا رہی، ان کی بیٹی دو سال کی تھی تو والد سے ملی تھی، یا سین ملک کے ساتھ انسانی حقوق کے پروٹوکولز کے خلاف سلوک روا رکھا جا رہا ہے، عالمی برادری کو اس پر جواب دینا ہوگا، یاسین ملک کو اپنا کیس لڑنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی، یاسین ملک کو فری ٹرائل تک رسائی نہیں، نہ ان کی آواز باہر پہنچائی جا رہی ہے، بھارت جتنی مرضی کوشش کرلے، کشمیری عوام کے جذبے اور آزادی تحریک کو دبا نہیں سکتا،پاکستانی قوم مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہم اس سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، مودی نے 5اگست 2018 کو غیر قانونی قانون منظور کیا، ہم نے ہر سطح پر اس کی مذمت کی، کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں، یاسین ملک کے کیس کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا۔