ڈیموکریسی سمٹ

ڈیموکریسی سمٹ ” امریکی بالا دستی کا ایک آلہ ہے، چینی میڈ یا

واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن )امریکہ میں دوسری ” ڈیموکریسی سمٹ ” شروع ہونے والی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ایونٹ کی میڈیا کوریج بہت کم ہے۔ مغربی سوشل میڈیا پر ہونے والی چند بحثوں میں توجہ اجلاس کے موضوعات پر نہیں بلکہ اس کے پیچھے” ارادے” پر مرکوز رہی ہے۔بد ھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق

سنہ 2021 میں امریکہ کی جانب سے منعقدہ پہلی “ڈیموکریسی سمٹ” میں 20 سے زائد ممالک نے شرکت سے انکار کر دیا تھا،جبکہ اس کے کوئی باضابطہ ثمرات بھی سامنے نہیں آئے تھے۔ امریکی طرز جمہوریت طویل عرصے سے اندرونی طور پر خراب ہو چکی ہے، لیکن یہ دنیا میں تباہی اور موت کے بیج بوئے گی۔ “جمہوریت” کے نام پر جنگ چھیڑنا اور دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں سراسر مداخلت کرنا ، یہ امریکی تاریخ کا نمایاں پہلو ہے۔

ٹفٹس یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق امریکہ نے 1776 سے 2019 کے درمیان دنیا بھر میں تقریباً 400 فوجی مداخلتیں کیں۔ اس وقت مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور صحارا افریقہ میں امریکی فوجی مداخلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شام میں تباہی سے لے کر افغانستان میں منشیات کی وبا سے لے کر لیبیا میں جاری خانہ جنگی تک، امریکہ افراتفری کا منبع ہے۔

جمہوریت، جو تمام انسانیت کی ایک مشترکہ قدر ہے، امریکی روش کے تحت بالادستی کا ایک آلہ بن گئی ہے. امریکہ کی نام نہاد “ڈیموکریسی سمٹ” دراصل شراکت داروں کو اکٹھا کرنے اور اپنی طاقت کو بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔ بین الاقوامی برادری عام طور پر یہ سمجھتی ہے کہ اس کا مقصد دنیا کو مخالف کیمپوں میں تقسیم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔