چین 21

چین کا قومی سطح کا “سبزیوں کی ٹوکری” کا منصوبہ عالمی تو جہ حاصل کر گیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)حالیہ دنوں ، چین کے متعدد علاقوں کو طوفان اور شدید بارشوں کے باعث سیلابی آفات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم زیادہ تر متاثرہ علاقوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں اور بحالی کے اقدامات شروع کر دیے۔ عوام کی روزمرہ ضروریات، بالخصوص خوراک اور سبزیوں کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی مستحکم رہیں۔ یہ نظم و ضبط کہ “پانی آیا، لوگ محفوظ مقام پر منتقل ہوئے، سامان کی فراہمی نہیں رکی اور قیمتیں بے قابو نہیں ہوئیں”، دراصل چین کے قومی سطح کے “سبزیوں کی ٹوکری” اور “اناج کے تھیلے” جیسے عوامی فلاحی منصوبوں کی کئی دہائیوں پر محیط منصوبہ بندی اور مضبوط بنیادوں کا نتیجہ ہے۔

کئی دہائیاں قبل چین ایسے دور سے گزر رہا تھا جب اشیائے ضروریہ کی شدید قلت تھی۔ آج کے چین کو دیکھ کر یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کبھی کھانے جیسی بنیادی ضرورت بھی چینی عوام کی کئی نسلوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہی تھی۔ اس وقت راشن کے لیے اناج، سبزیوں اور گوشت کے ٹوکن ہر خاندان کی زندگی کا لازمی حصہ تھے۔ اگر کسی کے پاس ٹوکن نہ ہوں تو پیسے ہونے کے باوجود بھی وہ مطلوبہ خوراک نہیں خرید سکتا تھا۔ اس دور میں چینی عوام کی بنیادی خوراک زیادہ تر موٹے اناج پر مشتمل تھی۔

مکئی کا آٹا، شکر قندی اور مکئی کے بن، جنہیں چین میں وو تھو کہا جاتا ہے ،روزمرہ خوراک کا حصہ تھیں ، جبکہ چاول اور سفید آٹا صرف تہواروں پر ہی محدود مقدار میں دستیاب ہوتے تھے۔ شمالی چین میں سردیوں کے موسم میں اکثر خاندانوں کے کھانے کی میز پر بار بار صرف بند گوبھی، مولی اور آلو ہی نظر آتے تھے۔ کھیرا، ٹماٹر جیسی گرمائی سبزیاں تو دور کی بات، تازہ پھل اور سبزیاں تو ایک ایسی نعمت تھیں جس کا تصور بھی محال تھا۔ جنوبی چین کی صورتحال بھی زیادہ مختلف نہیں تھی۔ سبزیوں اور پھلوں کی اقسام محدود تھیں، جبکہ گوشت، انڈے اور دودھ بھی نایاب اشیا میں شمار ہوتے تھے۔ سال بھر میں چند مرتبہ ہی گوشت کھانے کا موقع ملتا تھا۔ اشیائے خوراک کی کمی، موسمیاتی مسائل اور کمزور ترسیلی نظام اس دور کی مشترکہ یادیں ہیں۔

انیس سو اٹھاسی میں، چین کے اصلاحات و کھلے پن کے عمل کے تسلسل کے ساتھ، قومی سطح کا “سبزیوں کی ٹوکری” منصوبہ باضابطہ طور پر شروع کیا گیا۔ اس نے عوام کو خوراک کی فراہمی اور اشیائے خوراک کی قیمتوں کے استحکام کو براہِ راست قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنا دیا۔ اس منصوبے کے تحت ایک منفرد “میئر ذمہ داری نظام” متعارف کرایا گیا، جس میں مقامی سبزیوں کی فراہمی اور قیمتوں کو مستحکم رکھنا مقامی حکومتوں کے سربراہان کی اہم ذمہ داری قرار دیا گیا۔

اگر کسی علاقے میں سبزیوں کی قلت پیدا ہوتی یا قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوتا تو متعلقہ ذمہ دار حکام سے جواب طلبی کی جاتی۔ یوں عام لوگوں کی مناسب قیمت پر تازہ سبزیاں حاصل کرنے کی صلاحیت کو مقامی حکومتوں کی کارکردگی سے براہِ راست جوڑ دیا گیا۔یہ تین دہائیوں سے چلنے والا عظیم عوامی منصوبہ، تین بنیادی ستونوں پر قائم ہے، جس نے چینی عوام کی خوراک کی صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

پہلا ستون جدید اور بڑے پیمانے پر زرعی پیداوار کا نظام ہے، جس نے موسم اور جغرافیائی حدود کی رکاوٹوں کو توڑا۔ چین میں گرین ہاؤسز کا مجموعی رقبہ40 ملین مو (تقریباً 2.67 ملین ہیکٹر) سے تجاوز کر چکا ہے، جو دنیا کے کل گرین ہاؤس رقبے کا 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ چین کی “سبزیوں کی سلیکون ویلی” کہلانے والے صوبہ شانڈونگ کے شہر شؤگوانگ میں دور دور تک پھیلے گرین ہاؤسز میں پورا سال معتدل ماحول برقرار رہتا ہے اور مختلف اقسام کی تازہ سبزیاں مسلسل پیدا ہوتی ہیں۔

مغربی چین کے صحرائی علاقوں میں پانی کی بچت والی زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے ریتلے اور پتھریلے میدانوں میں اعلیٰ معیار کے ٹماٹر اور رنگ برنگی شملہ مرچیں اگائی جا رہی ہیں۔ جنوبی علاقوں میں پانی پر مبنی جدید کاشت کاری کے ذریعے پانی کے اوپر سبزیاں اور نیچے مچھلیاں پالی جا رہی ہیں۔

چینی سائنس دانوں نے سبزیوں کی کاشت کاری کی ٹیکنالوجی انٹارکٹیکا کے تحقیقی مراکز تک پہنچا دی ہے اور خلائی بیجوں کی افزائش کے تجربات بھی کیے ہیں،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی لوگ سبزیاں اگانے کے اس “جذبے” میں کس قدر سنجیدہ ہیں ۔آج، چین دنیا کی صرف 9 فیصد قابلِ کاشت اراضی کے ذریعے دنیا کی تقریباً نصف سبزیاں پیدا کرتا ہے۔ ملک میں سالانہ سبزیوں کی مجموعی پیداوار 860 ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے، جبکہ فی کس سبزیوں کی دستیابی مسلسل دنیا میں سرفہرست ہے۔

دوسرا ستون ، ملک گیر نقل وحمل اور تقسیم کا جامع نیٹ ورک ہے، جس نے مختلف علاقوں میں خوراک کی فراہمی کی رکاوٹوں کو ختم کیا۔ چین نے جنوب سے شمال سبزیوں کی ترسیل اور مغرب سے مشرق زرعی مصنوعات کی فراہمی کے لیے قومی سطح کے ترجیحی چینلز قائم کیے ، جبکہ ملک بھر میں کولڈ چین لاجسٹکس کا وسیع نظام بھی تشکیل دیا گیا۔ اس نظام کے باعث مختلف علاقوں کی خصوصی اشیائے خوردونوش پورے ملک میں آسانی سے پہنچتی ہیں۔ اب جغرافیائی فاصلے اور موسم خوراک کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ نہیں رہے، اور ملک بھر کی سبزی منڈیوں اور سپر اسٹورز میں کہیں کی بھی خصوصی زرعی مصنوعات آسانی سے دستیاب ہیں۔

تیسرا ستون مکمل سپلائی اور قیمتوں کے استحکام کا نظام ہے، جو عام لوگوں کی خوراک کی بنیادی ضروریات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ چین نے زرعی پیداوار کے مراکز، بڑے تھوک بازاروں اور کمیونٹی سطح کے خوردہ مراکز پر مشتمل تین سطحی نگرانی کا نظام قائم کیا ہے۔ اس کے ساتھ زرعی مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے سبسڈی، کاشتکار سے براہِ راست خریداری اور سپلائی کے ہر مرحلے کی نگرانی کے تین میکانزم متعارف کرائے گئے ۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ چاہے تہواروں کے دوران طلب میں اضافہ ہو یا شدید موسمی آفات کا سامنا ہو، تازہ خوراک کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ اسی کے ساتھ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنے اور قیمتوں میں ناجائز اضافے کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے جاتے ہیں، تاکہ عام شہری مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اشیا خرید سکیں اور خوراک کا حصول ان کے لیے بوجھ نہ بنے۔

اسی طرح گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران، چینی عوام کی خوراک میں تین واضح اور بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ پہلی تبدیلی”پیٹ بھر کر نہ کھا پانے” سے لے کر “پیٹ بھر کر کھانے” تک کا سفر تھا۔” سبزیوں کی ٹوکری” کے ذریعے ہر خاندان کے کھانے میں تازہ سبزیاں معمول بن گئیں، جبکہ گوشت، انڈے اور دودھ بھی صرف تہواروں تک محدود نہیں رہے۔ عام لوگ خوراک کی قلت کے دور سے مکمل طور پر باہر نکل آئے۔ دوسری تبدیلی “پیٹ بھرنے” سے “اچھی خوراک” تک کا سفر تھا۔

شمال و جنوب کی اشیاء کی ترسیل اور عالمی درآمدی تازہ اشیاء کی فراہمی سے سمندری غذائیں، گرمائی پھل، مختلف علاقوں کے خصوصی اناج اور مقامی مصنوعات سپر اسٹورز اور سبزی منڈیوں کی زینت بن گئی ہیں۔ فوڈ ڈیلیوری ایپس اور آن لائن تازہ اشیاء کی فراہمی عام ہو چکی ہے۔ اب موبائل پر آرڈر دینے کے چند منٹوں بعد اشیاء گھر پہنچ جاتی ہیں۔ایک عام گھر کی میز پر اب نہ صرف ملک کے بلکہ دنیا بھر کے ذائقوں کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے اور غذائی انتخاب میں پہلے سے کہیں زیادہ تنوع آ گیا ہے۔

تیسری تبدیلی “اچھی خوراک” سے “صحت بخش خوراک” تک کا سفر ہے۔ نئے دور میں چینی عوام کے غذائی تصورات میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اب صرف مقدار اور تنوع پر توجہ نہیں بلکہ غذائیت کے توازن، گرین اور حفظانِ صحت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔کیمیائی آلودگی سے پاک سبزیاں، نامیاتی زرعی مصنوعات، موٹے اناج اور کم چکنائی والی غذائیں زیادہ مقبول ہو رہی ہیں۔زرعی مصنوعات کی مکمل نگرانی کا نظام قائم ہے،جس سے سبزیوں اور گوشت سمیت ہر مصنوعات کے پیداواری مقام اور معیار کی جانچ کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ صحت بخش اور محفوظ خوراک اب عوام کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

ایک کھانے کی چھوٹی میز دراصل چین میں عوامی فلاح و بہبود کی ترقی کی پوری تاریخ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ کئی دہائیوں کے دوران کھانے پینے کی سہولیات میں آنے والی یہ بڑی تبدیلی چینی طرزِ جدیدیت اور عوام کو مرکزیت دینے والے ترقیاتی تصور کی سب سے واضح اور عوامی زندگی سے جڑی مثال ہے۔اس چھوٹی سی “سبزی کی ٹوکری” نے ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد چینی عوام کے تین وقت کے کھانوں کو سنبھال رکھا ہے، اور یہ چین کی جانب سے عوامی فلاح کے میدان میں پیش کیا گیا ایک گرمجوش اور مضبوط جواب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں