چین کا بے مثال ترقیاتی سفر

چین کا بے مثال ترقیاتی سفر

چین کا بے مثال ترقیاتی سفر
تحریر:طاہر فاروق
چین کی ترقی کا احاطہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔چین نے زندگی کے ہر شعبے میں بے پناہ ترقی کی۔انتہائی مضبوط بنیادوں پر چین کا اقتصادی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔ چینی قوم نے اپنے عظیم رہنماء دنگ شیاؤ پھنگ کے ویژن پر مکمل عمل کیا اور بیالیس برس کے عرصے میں اپنے ملک کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور اس مقام پر پہنچ گیا جہاں دوسری قوموں کو پہنچنے میں شاید صدیاں لگیں۔ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 71 سال پورے ہو چکے ہیں۔
چین نے اس عرصے میں ترقی کے میدان میں وہ کمالات کر دکھائے ہیں جس کی شاید ہرقوم خواہش رکھتی ہے۔ ترقی کی اس منزل تک پہنچنے کے لئے چینی قوم نے متحد ہو کر زبردست جدوجہد کی ۔ ایسے لگتا ہے کہ چینی قوم نے بانی پاکستان قائد اعظم کے قول ”کام کام اور بس کام” پر صحیح معنوں میں عمل کیا۔ کاش ہم بابائے قوم کے احکامات پر عمل کرتے تو آج ترقی کر چکے ہوتے۔ دنیا کیا کہتی ہے کہ چینی قوم نے اس کی طرف کان نہیں دھرا۔ اپنی تمام تر توجہ ملک کی تعمیر وترقی پر مرکوز رکھی۔پوری قوم چینی سیاسی قیادت اورعوام ایک صفحے پر رہے۔ چینی قیادت کا ظاہر وباطن ایک اور اپنی قوم کے سامنے کھلی کتاب کے مانند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ ہو یا یورپ یا کوئی اور ملک چین کی محیر العقول ترقی سے ورطہ حیرت میںہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی اقتصادی طاقت کا یہ مقام حاصل کرنے میں اس عظیم قوم کو صدیاں نہیں صرف چالیس بیالیس برس لگے۔
پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 71 سال پورے ہو رہے ہیں۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ آج کل کے حالات میں جب دہشت گردی میں ہمارے چینی دوست اپنی جانوں کے نذرانے پیش رہے ہیں۔ چینی قیادت پاکستان کی حمایت کر رہی ہے۔
چینی آج تک یہ نہیں بھولے کہ پی آئی اے دنیا کی واحد ایئرلائن تھی جس کا جہاز بیجنگ میں اترتا تھا۔ یہ واحد طیارہ تھا جس کے ذریعے چین کا دنیا کے ساتھ رابطہ ہوتا تھا ۔ چین کے وفود اور تاجر پاکستان کے ذریعے بیرونی دنیا کے ساتھ سیاسی و معاشی رابطہ قائم کرتے تھے۔ایک عرصہ تک پاکستان ہی تھا جس کے ذریعے چین عالمی سیاست میں اپنی جگہ بنا رہا تھا۔
چین کی ترقی پوری دنیا کے لئے بالعموم اور پاکستان بالخصوص توجہ کا باعث ہونی چاہئے۔ ہمارے پڑوس میں ہمارے دوست ملک چین نے محیر العقول ترقی کرلی کہاں سے کہاں پہنچ گیا دنیا مسخر کرلی اور ہم کہاں رہ گئے ؟
چین کے موجودہ صدر شی جن پھنگ ایک عالمی سیاست دان ہیں ، وہ صرف اپنے ملک کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کامیابیوں کا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف اور بالخصوص غریب اور پسماندہ ممالک میں چین نے مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہوئے ہیں جس سے ان ممالک میں ترقی کا دور شروع ہو رہا ہے۔
بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ صدر شی جن پھنگ کا ایک عظیم وژن اورمنصوبہ جو پوری دنیا کو امن اورترقی سے منسلک کرتا ہے۔چین کے صدر شی جن پھنگ نے جس انداز میں دنیا کے سامنے ترقی اور خوشحالی کا منصوبہ متعارف کرایا ہے اس سے ایک طرف ان کی قدر ومنزلت میں اضافہ اور یہ ثابت ہوا کہ چین ”مشترکہ خوشحالی” اور ”مشترکہ ترقی” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ترقی کے مقام پر جہاں چین آج پہنچ چکا ہے اس سے پاکستان ہی نہیں خطے کے دیگر ممالک بالخصوص افغانستان بھی فائدہ اٹھا کر اپنے ملک سے غربت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ چین کے اقتصادی منصوبوں بالخصوص سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ میں شامل ہو کر افغانستان پاکستان اور دیگر ممالک زبردست ترقی کر سکتے ہیں۔
قوموں کی زندگی میں بعض واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں جو انہیں پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اورمربوط کر دیتے ہیں۔کورونا کے حالیہ بحران میں دنیا نے دیکھا کہ چینی قوم مزید منظم اور متحد ہو کر اُبھری۔وائرس کے خاتمے کے بعد چین کا دنیا بھر کے لئے فلاحی کردار رہا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے دنیا کے ہر ملک کے ساتھ تعاون کیا اور ایسے ممالک جو چین کے خلاف سرگرم رہے کو بھی کووڈ سے بچائو کی ویکسین فراہم کی۔ اس وباء سے نمٹنے کے سلسلے میں چین ایک مددگار ملک کے طور پرسامنے آیا۔
پاکستان کے ساتھ چین کے تعلقات کی نوعیت مختلف ہی نہیں انتہائی منفرد بھی ہے۔ دونوں ممالک کے سرکاری اور عوامی سطح پر بہت گہرے روابط ہیں۔ ان تعلقات کے فروغ اور دونوں قوموں کو قریب لانے میں پاکستان اور چین دونوں کا کردار نہایت مثبت اورموثر رہاہے۔
پاکستان کی سیاسی قیادت ہمیشہ یہ کہتی ہے کہ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو صرف چین ہی وہ واحد ملک ہے جس کے تجربات سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن عملاً صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اگر اپنے مسائل پر قابو پانا چاہتا ہے تو چین سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔
چین نے ایک ایسے موقع پر سی پیک منصوبہ کا آغاز کیا جب پاکستان معاشی لحاظ سے مشکلات سے دوچار تھا۔ اکثر برادر اسلامی ممالک ہم سے منہ موڑ چکے تھے۔سی پیک کو متنازعہ بنانے کے لئے امریکہ اور بھارت نے ہر حربہ آزمایا۔ پاکستان اور چین دشمن قوتیں منظم ہو کر اس منصوبے کے خلاف ہر روز کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیتی ہیں۔ سی پیک کے خلاف ایک بھرپور منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ دراصل یہ قوتیں صرف پاکستان ہی کی مخالف نہیں بلکہ پورے خطے میں بدامنی اور عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔
یہ بہترین وقت ہے کہ چین اور پاکستان اپنی ترجیحات کو ازسر نو مرتب کریں۔ انسانی تحفظ ، انسانی ترقی ، صحت کی بہتر دیکھ بھال اور ماحولیاتی تبدیلی پر توجہ مرکوز کریں۔

چین کی تاریخ دیکھی جائے تو آج تک اس نے کسی ملک پر قبضہ ںہیں کیا اور نہ ملکوں میں فسادات برپا کئے۔ جنگیں کرنے کی بجائے چین نے معاشی ترقی اور ”مشترکہ خوشحالی” کی پالیسی پر عمل کیا۔ صدر شی پھنگ متعدد بار اس بات کا اظہار کر چکے ہیں ۔ تمام ممالک کو انسانیت کی خدمت اور مشترکہ مستقبل کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔

آج پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 71 سال پورے ہونے پر پاکستان کی قیادت اورعوام کو چین کی ترقی کا ایک ”کیس سٹڈی” کے طور پر بغور اور گہرا جائزہ لینا چاہئے۔ چین نے اس قلیل عرصے میں کیسے ترقی کی اور وہ کونسے اقدامات اور عوامل تھے جن کے باعث آج چین کی معیشت دنیا کی مضبوط ترین معیشت میں شمار ہو رہی ہے۔ چین کی ترقی پاکستان کے لئے باعث تقلید ہونا چاہئے۔