بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) جنوبی افریقہ کے نائب صدر پال ماشاتیلے نے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیا۔
انہوں نے کہا کہ چین، جنوبی افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ صدر شی جن پھنگ اور صدر رامافوسا نے باہمی اتفاق سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئے دور کی ہمہ جہت اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری تک بلند کیا، جو جنوبی افریقہ کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے موجودہ دورۂ چین کا مقصد بھی اسی بنیاد پر دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید گہرا کرنا ہے، اور جنوبی افریقہ میں توانائی، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل معیشت اور دیگر اہم شعبوں میں چینی کمپنیوں کی شمولیت سے ملکی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا اور دوطرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
پال ماشاتیلے نے کہا کہ چین کی ترقی کی رفتار انتہائی تیز ہے۔ چین پہنچنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ جن ترقیاتی منصوبوں سے انہیں آگاہ کیا گیا تھا، وہ مرحلہ وار عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ بھی یہی چاہتا ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبے تیزی سے نافذ کیے جائیں۔جنوبی افریقہ میں عملدرآمد کی رفتار پر ہمیشہ زور دیا جاتا ہے، اس لیے وہ چین سے یہ سیکھنا چاہتے ہیں کہ منصوبہ بندی کس طرح کی جاتی ہے، اسے کس طرح عملی جامہ پہنایا جاتا ہے، اور مقررہ مدت کے اندر نئی ریلوے لائنیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کس طرح مکمل کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے چین۔افریقہ تعاون کے بارے میں بیرونی دنیا کی جانب سے کی جانے والی غلط تشریح اور منفی پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے اس تعاون کے مثبت نتائج دیکھے ہیں، وہ منفی اثرات ہرگز نہیں دیکھے جن کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔”چین ہمیشہ افریقی ممالک کے ساتھ برابری اور احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتا ہے۔ پال ماشاتیلے نے چین کی جانب سے سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک کے لیے مکمل زیرو ٹیرف پالیسی کے نفاذ کو سراہتے ہوئے کہا، “یہ ایک بہت اچھی پالیسی ہے، ہم اس کا دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔”









