کامران مرتضیٰ 22

پی ٹی آئی نے دعوت دی لیکن شرکت سے معذرت کر لی ہے ‘جے یو آئی

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مرکزی رہنما کامران مرتضی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے تاہم ہم نے معذرت کرلی ہے، جماعت اسلامی نے دعوت دی ہے یا نہیں اس کا مجھے معلوم نہیں،ہماری جماعت اپنا اکیلے احتجاج کر سکتی ہے ،کسی دوسری جماعت کے ساتھ مل کر احتجاج نہیں کریگی اور مولانا فضل الرحمان نے بالکل واضح انداز میں یہ بات کردی تھی۔

ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا ہ نے دعوی کیا ہے کہ وہ 40 لاکھ لوگوں کے ساتھ خیبر پختونخوا ہ سے اسلام آباد آئیں گے، 27 ستمبر کو واضح ہو جائے گا کہ ان کا یہ دعوی درست ہے یا نہیں لیکن بطور ایک سیاسی کارکن مجھے یہ ممکن نہیں لگتا کہ 40 لاکھ لوگوں کا مارچ کسی ایک شہر یا ایک صوبے سے چل پڑے اور مرکزی دارالحکومت تک آ جائے۔

انہوں نے کہاکہ اب دونوں جانب ایک امتحان شروع ہو چکا ہے، ایک امتحان شاید پی ٹی آئی کا ہے اور دوسرا حکومت کا،اب دیکھنا یہ ہے کہ اس امتحان میں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام رہتا ہے، ممکن ہے کہ یہ صورت حال دونوں فریقوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جائے۔اس وقت ہماری نظر ان دونوں مارچوں پر ہے،جماعت اسلامی کے مارچ کے نتائج دیکھیں گے، اسی طرح پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے اسلام آباد آنا چاہتی ہے،ہم دونوں معاملات کا بغور جائزہ لیں گے، ان کا مطالعہ کریں گے اور اس کے بعد اپنی جماعت کا آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے۔انہوںنے کہاکہ مولانا فضل الرحمن17 ستمبر کو کراچی جائیں گے اور اس کے بعد پشاور کا دورہ کریں گے۔

اگر کسی کو اتحاد کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو وہ ہم سے زیادہ پی ٹی آئی کو محسوس ہو رہی ہے، وہ آگے بڑھیں گے تو پھر ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور اسے پرکھیں گے۔جب تک تمام معاملات بالکل واضح نہ ہو جائیں، آپس کے اختلافات کی دھند چھٹ نہ جائے اور تمام امور طے نہ ہو جائیں، اس وقت تک ہمارے لیے مزید آگے بڑھنا مشکل ہے۔تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سوال پر کامران مرتضی نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی معاملہ نہیں، اس پر ابھی تک غور بھی نہیں کیا گیا، اس لیے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

میرے خیال میں تحریک عدم اعتماد کے بجائے نئے انتخابات کرانا زیادہ بہتر ہوگا، وہ بھی شفاف اور آزادانہ ہوں، تاکہ عوام اپنے نمائندے منتخب کر سکیں اور پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں