کراچی(رپورٹنگ آن لائن)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان نے اتوار کے روز ریڈ لائن پروجیکٹ کے مقام کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی روڈ فوری طور پر قابلِ استعمال بنایا جائے،ریڈ لائن منصوبے پر کام کی رفتار تیز کی جائے،شہریوں کے لیے متبادل ٹریفک پلان اور سہولیات فراہم اورمنصوبے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں،پیپلزپارٹی بی آرٹی ریڈ لائن ودیگر منصوبوں کے پیچھے چھپ کر اپنی نااہلی کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے،
جبکہ K-4سمیت دیگر منصوبے بھی تاخیر اور بدعنوانی کا شکار ہیں۔پیپلزپارٹی کا ریڈ لائن منصوبہ شہریوں کے لیے اذیت و عذاب کا باعث بن چکا ہے ،سندھ حکومت شہریوں کو متبادل راستے، ٹریفک مینجمنٹ اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ 503 ملین ڈالر (تقریباً 79 ارب روپے) لاگت کاریڈ لائن منصوبہ اب کئی گنا مہنگا ہوچکا ہے، مگر اس کے باوجود پیش رفت انتہائی سست ہے۔ چار سال گزرنے کے باوجود صرف 23 فیصد کام مکمل ہوا اور اب کنٹریکٹ کی منسوخی اور عدالتی معاملات نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ریڈ لائن منصوبے کی نئی لاگت، تکمیل کی حتمی تاریخ اور تاخیر کی وجوہات سے عوام کو آگاہ کریں۔جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ہم عدالتوں سے رجوع بھی کریں گے، سڑکوں پر احتجاج بھی کریں گے اور ہر فورم پر کراچی کے عوام کی آواز بلند کریں گے،جماعت اسلامی شہر بھر میں بڑے پیمانے پر ممبر سازی مہم شروع کر رہی ہے جس کے تحت 10 لاکھ افراد کو تنظیم کا حصہ بنایا جائے گا اور عوام کو اس ظالمانہ نظام کے خلاف منظم کیا جائے گا۔اس موقع پر امیرجماعت اسلامی ضلع شرقی نعیم اختر،ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمد ،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،سیکریٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی و دیگر بھی موجود تھے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ جو شہریوں کے لیے سہولت کا ذریعہ بننا تھا، آج شدید اذیت اور عذاب کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ 2016 میں شروع ہونے والی فزیبلٹی 2019 میں مکمل ہوئی، جبکہ 2022 میں منصوبے کا باضابطہ آغاز کیا گیا اور اسے 2023 تک مکمل ہونا تھا، مگر مسلسل تاخیر، ناقص منصوبہ بندی اور بدانتظامی کے باعث آج تک اس کا صرف محدود حصہ ہی مکمل ہوسکا ہے۔یونیورسٹی روڈکراچی کی مصروف ترین شاہراہ ہے، جومکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ لاکھوں شہری روزانہ اذیت ناک ٹریفک، گردوغبار، کاروباری نقصان اور ماحولیاتی آلودگی کا سامنا کررہے ہیں۔
تعلیمی اداروں، دفاتر اور تجارتی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی افراد حادثات اور بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود شہر کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ کچرا نہیں اٹھایا جا رہا، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کراچی کے عوام اب مزید دھوکہ برداشت نہیں کریں گے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھیں گے۔









