عالمی ادارہ صحت 17

پھیلتا ایبولا وائرس تاریخ کی مہلک ترین وبا ثابت ہوسکتا ہے: عالمی ادارہ صحت نے خبردار کر دیا

جینوا (رپورٹنگ آن لائن) عالمی ادارہ صحت نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پھیلتا ایبولا وائرس تاریخ کی مہلک ترین وبا ثابت ہوسکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل نے ٹیڈروس ایڈ ھانوم گیبریئسس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس بار کی وبا اپنی موجودہ رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014 سے 2016 کے دوران سامنے آنے والی وبا کو پیچھے چھوڑ دے گی جن کے نتیجے میں کم از کم 11 ہزار اموات ہوئی تھیں۔کانگو میں اس سال کی ایبولا وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا اور اب تک اس کے کم از کم 4,300 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 2,000 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کوشش ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار کو روکا جا سکے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وائرس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا بلکہ یہ محض اس کی منتقلی کو قابو میں لائے جانے کی جانب اشارہ ہو گا۔حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وبا کا باضابطہ اعلان مئی میں کیا گیا تھا، لیکن اس کا آغاز اس سے کم از کم تین ماہ پہلے ہو چکا تھا۔

ایبولا وبا کے مرکز کے قریب واقع شہر بونیا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈبلیو ایچ او کے افریقہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنابی کا کہنا تھا کہ ہم وائرس بارے معلومات جمع کر رہے ہیں لیکن وائرس ہم سے آگے ہے۔

انہوں نے ایسی تحقیق کا حوالہ دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وائرس فروری میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور ابتدا میں اسے غلطی سے ملیریا یا ٹائیفائیڈ قرار دیا گیا تھا، 2026ء کی یہ وبا ایبولا وائرس کی نایاب بنڈی بوگیو قسم کی وجہ سے پھیلی ہے، جو اس سے پہلے 2007ء اور 2012ء میں وبا کے پھیلاؤ کا سبب بنی تھی.
وائرس کی اس قسم کے لئے نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی تسلیم شدہ دوا دستیاب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں