کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سابق گورنر سندھ، نشانِ امتیاز اور میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کے روحِ رواں ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، قومی وحدت، ملکی سالمیت اور آئینی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، لسانی تعصب، قوم پرستی اور نفرت کی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں، قومی معاملات میں عوامی رائے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔وہ میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کی ایڈوائزری کونسل، مرکزی کمیٹی اور آرگنائزنگ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔
اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی و انتظامی صورتحال، سندھ اسمبلی میں ہونے والے حالیہ واقعات، تنظیمی امور اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم اور نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، ایسے حالات میں قومی وحدت اور عوامی مفاد کو سیاسی مصلحتوں پر ترجیح دینا ہوگی۔ ملک میں لسانی تعصب، قوم پرستی اور نفرت پر مبنی سیاست کو فروغ دینا کسی صورت قومی مفاد میں نہیں، سیاسی اختلافات کو جمہوری اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سمیت ملک بھر میں انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام پر سنجیدہ غور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انتظامی ڈھانچے میں بہتری اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔
ایم پی پی پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں اصلاحات اور عوامی فلاح کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہم سب کی مشترکہ شناخت اور دھرتی ہے، میری پہچان پاکستان ملک کی وحدت، سالمیت اور آئینی بالادستی کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ تنظیمی تیاریاں مکمل کریں اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز اور مؤثر بنائیں تاکہ عوام کو درپیش مسائل اور ان کی آواز مؤثر انداز میں سامنے لائی جاسکے۔ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ ملک کو محض سیاسی نعروں کے بجائے عوامی مفاد پر مبنی عملی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اہم قومی معاملات پر ریفرنڈم کا انعقاد ایک مؤثر جمہوری طریقہ ہوسکتا ہے جس کے ذریعے عوام کی حقیقی رائے سامنے آسکتی ہے اور بڑے فیصلوں کو عوامی تائید حاصل ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری بدانتظامی، کرپشن، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اختیارات کے ارتکاز نے عوام کو مشکلات سے دوچار کیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں حقیقی اور نتیجہ خیز اصلاحات نافذ کی جائیں، اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔سابق گورنر سندھ نے کہا کہ بانیانِ پاکستان کے نظریات اور اصولوں کے مطابق ملک کو آگے بڑھانا ہی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ پاکستان کی بقا اور استحکام کے لیے تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو قومی یکجہتی کو مقدم رکھنا ہوگا۔اجلاس میں تنظیمی امور، آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، جبکہ شرکائ نے پاکستان کی قومی وحدت، استحکام اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔









