پاکستان

پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تمام ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا، گرے لسٹ سے باہر نکلنے کیلئے ایک قدم دور ہے،حنا ربانی کھر

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تمام ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا، گرے لسٹ سے باہر نکلنے کیلئے ایک قدم دور ہے،اس معاملے پر جشن منانا قبل از وقت ہے،ایف اے ٹی ایف اراکین نے تسلیم کیا پاکستان نے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی سے بہترین انداز میں مقابلہ کیا ، دہشتگردوں کی مالی امداد کو روکنا پاکستان کی اولین ترجیح ہے،مشکل وقت میں ہم نے ایک قوم بن کر کام کیا،معاملے کا کریڈٹ کسی کو نہیں جاتا، اصل جیت پاکستان کی ہے ۔دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل)اور دہشت گردوں کی مالی معاونت (سی ٹی ایف)کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے جامع اصلاحات پر عمل درآمد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے، پہلا ایکشن پلان بہت طویل تھا لیکن یہ ایکشن پلان ہم نے مقررہ وقت سے قبل پورا کرلیا اور اس کو ایف اے ٹی ایف کے تمام اراکین نے تسلیم کیا اور پاکستان کی تیز رفتار پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی مالی امداد کو روکنا پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف اراکین نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی سے بہترین انداز میں مقابلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ہم نے دیکھا کہ ایف اے ٹی ایف نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پاکستان تمام تر تکنیکی بینج مارک سے نمٹا اور 2018اور 2021میں دیئے گئے تمام ایکشن پلانز پر کامیابی سے عمل درآمد کیا۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی اے نے ایکشن پلانز کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے اپنی ٹیم پاکستان بھیجے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ ابہام دور کرتی چلوں کہ یہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے پلان کا ایک حصہ ہے جب آپ کسی بھی ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے اتھارائز کرتے ہیں تو آپ ٹیکنیکل طریقہ کار اختیار کرتے ہیں جو پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول پر کام کر رہا ہے دورے کی تاریخ مشترکہ گفتگو کے بعد طے کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے صرف ایک قدم دور ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے ، تاہم اس معاملے پر جشن منانا ابھی قبل از وقت ہوگا، ابھی تو گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2021کے ایکشن پلان پر 2021میں وقت سے قبل ہی عمل کر لیا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2018کا ایکشن پلان کامیابی سے مکمل کیا تھا اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔انہوںنے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ سال ایکشن پلانز میں کامیابی سے متعلق تین پیش رفت رپورٹس ایف اے ٹی ایف کو پیش کیں جس میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابی کا حوالہ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے اعلان کرنے میں خوشی محسوس ہورہی ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلانز کے تمام پوائنٹس پر مقررہ وقت میں کامیابی سے عمل درآمد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مکمل قومی اتفاقِ رائے کو اجاگر کرتے رہے ہیں، میں یقین دہانی کرواتی ہوں کہ حکومت اپنے وعدے کو پورے کرتے ہوئے قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ اس مرحلے کو آگے بڑھائے گی۔وزیر مملکت نے کہا کہ میں اس بات پر بھی زور دینا چاہتی ہوں پاکستان کا ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون ہماری معیشت کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں بہتری سے متعلق حکمتِ عملی کے مقاصد پر مبنی ہے۔حنا ربانی کھر نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کی کارکردگی کو تسلیم کرنا پاکستان کی معیشت پر اعتماد بحال کرتے ہوئے سرمایہ کاری میں مزید بہتری پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ میں یہ بات تسلیم کرنا چاہتی ہوں بلکہ اس بات پر زور دینا چاہتی ہوں ٹیم کی انتھک کا نتیجہ ہے جنہوں نے مشکل اور پیچیدہ ہدف عبور کرنے کیلئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، میرا خیال ہے کہ ہمیں اس بات پر خوش ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی فریضے کی انجام دہی میں متعدد وفاقی و صوبائی محکموں اور اداروں نے حصہ لیا، کبھی کبھار ہم وہ بھی حاصل کر لیتے ہیں جو بظاہر ناممکن ہوتا ہے، یہ حکومت کی کوشش کا نتیجہ ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان اس مقام پر ہے جہاں نہ صرف تیز رفتار اصلاحات کو بحال رکھا جاسکتا ہے بلکہ گرے لسٹ میں موجود دیگر ممالک کو تکنیکی تعاون بھی فراہم کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ ہم خطے میں سی ایف ٹی اور اے ایم ایل کی قانون سازی سے متعلق نظام سے تھوڑا پیچھے ہیں، لیکن پھر بھی ہم دنیا کے بہت سے ممالک سے بہتر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دورے اور جلد از جلد گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔وزیر مملکت نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق پیش رفت ظاہر کرنے میں احتیاط کرنے کی نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی خبریں پھیلانے کی خواہش نے ہمیں نقصان پہنچایا ہے ۔انہوں نے زور دیا کہ ایف اے ٹی ایف کے فیصلے کے اعلان سے قبل معلومات فراہم کرنے سے متعلق حکومت بہت زیادہ محتاط ہے۔انہوں نے کہا کہ گرے لسٹ سے نام نکلنا پاکستان کے لیے نیا آغاز ہوگا، جس کے بعد پاکستان کا مالیاتی نظام دوسروں کی رپورٹس کے برخلاف اس کی اپنی ضروریات کے مطابق بہتر ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں حنا ربانی کھر نے تسلیم کیا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس سے دو ایکشن پلان مکمل کرنے کیلئے کہا گیا یہ عمل غیر مثالی ہے، بلکہ ہم واحد ملک ہیں جس کے پاس بیک وقت عمل درآمد کیلئے دو منصوبے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تھکا دینے والا عمل تھا، اس میں قانونی ڈھانچے کا خیال رکھنا تھا، ترامیم اور پھر نئے قوانین کی تعمیر اور نظام کو ادارہ جاتی بنانا تھا۔ انہوںنے کہا کہ اب پاکستان کے ذمے کوئی اقدامات زیرالتوا نہیں، ایک ملک ہمیشہ اس عمل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے، مگر ہم کوئی منفی بات نہیں کریں گے، ہم پاکستان کو آگے دیکھنے کے خواہاں ہیں۔اس معاملے کا کریڈٹ کسی کو نہیں جاتا، اصل جیت پاکستان کی ہے ۔