طلال چودھری 12

پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے ساتھ ایک منظم ’ٹیرر کرائم نیٹ ورک‘ بھی سرگرم ہے، جو اسمگلنگ، منشیات، غیر قانونی پٹرولیم مصنوعات اور اسلحے کی فراہمی سمیت مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے دہشت گرد کارروائیوں کو سہولت فراہم کرتا ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ بہت سے لوگ ان سرگرمیوں کو اپنا کاروبار قرار دیتے ہیں، تاہم حکومت انہیں ’ٹیرر کرائم‘ سمجھتی ہے۔ اس نیٹ ورک میں گاڑیوں کی اسمگلنگ، منشیات کا کاروبار، غیر قانونی پٹرولیم مصنوعات اور اسلحے کی فراہمی شامل ہے، جو عام جرائم پیشہ عناصر سے لے کر بڑے نیٹ ورکس تک پہنچائی جاتی ہیں۔

وزیر مملکت نے آزاد جموں و کشمیر میں ایک جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے سوالات اٹھائے گئے تھے کہ یہ کشمیریوں کے حقوق کی سیاسی جماعت یا کوئی کمیٹی ہے اور اسے سیاسی بنیادوں پر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اس وقت بھی واضح کیا گیا تھا کہ جماعت کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا، جن کی تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے بہت سی چیزیں سامنے آ چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بعض آڈیوز بھی لوگوں نے سنیں، تاہم ان کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہیں یا ان میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ان معاملات کی حقیقت جاننے کے لیے شواہد اور تحقیقات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس دہشت گردی اور اس کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے شواہد موجود ہیں اور ان معاملات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے حقائق اور تحقیقات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں ایک شخص گزشتہ کئی برس سے مختلف افراد کو اسلحہ فراہم کرنے کے کام میں ملوث ہے، جبکہ گزشتہ دو برس سے وہ ایک مخصوص گروہ کے لوگوں کو براہِ راست اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے بتایا کہ اس معاملے کا آغاز ضیا نامی شخص سے ہوا، جو آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضیا گزشتہ 8 سے 10 برس سے مختلف لوگوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا کام کر رہا ہے، جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران اس کی جانب سے اسلحے کی فراہمی براہِ راست مذکورہ گروہ کے افراد کو کی جا رہی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں