ڈاکٹر عشرت العباد خان 9

سندھ کی سیاست آتش فشاں بنتی جا رہی ہے، غیر جمہوری اقدامات ناقابل قبول ہیں، عشرت العباد

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سابق گورنر سندھ اور میری پہچان پاکستان کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ سندھ کی سیاست تیزی سے آتش فشاں بنتی جا رہی ہے، انتخابات سے قبل میئرز اور چیئرمینز کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنا پری پول رگنگ اور عوامی مینڈیٹ کو متاثر کرنے کے مترادف ہے، ایسے غیر جمہوری اقدامات ناقابل قبول ہیں۔مختلف شہروں میں کارکنوں اور تنظیمی ذمہ داران سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ میئرز اور چیئرمینز کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی کوشش بلدیاتی اداروں کی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے منافی ہے، عدالتوں کو ایسے اقدامات اور قوانین کا آئینی و قانونی جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا فیصلہ سیاست دان بند کمروں میں نہ کریں بلکہ عوام سے ریفرنڈم کے ذریعے رائے لی جائے کہ ملک کے مختلف صوبوں میں کتنے انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں۔ انتظامی تقسیم کا مقصد کسی قوم، زبان یا علاقے کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ عوام کو بہتر حکمرانی، وسائل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہونا چاہیے۔ ان کا یہ مؤقف ان کے حالیہ بیانات میں بھی سامنے آیا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوامی رائے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ سندھ کی شناخت محبت، برداشت اور صوفیانہ روایت سے جڑی ہوئی ہے، نفرت، تعصب اور لسانی تقسیم اس روایت کے منافی ہے۔ پاکستان دھرتی ماں ہے اور صوبے اس کے مضبوط حصے ہیں، قومی وحدت کو کمزور کرنے والی سیاست سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ قوم سیاسی محاذ آرائی، وعدہ خلافی اور مسلسل بحرانوں سے مایوس ہوچکی ہے، عوام کی نظریں قومی استحکام اور مضبوط قیادت کی طرف ہیں۔ تاہم ملک کے مسائل کا مستقل حل آئینی، جمہوری اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے ہی نکالا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وی آئی پی کلچر، مراعاتی سیاست اور اختیارات کے ارتکاز کا دور ختم ہونا چاہیے، عوام کو روزگار، تعلیم، صحت، امن، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور بنیادی شہری سہولیات درکار ہیں۔ اختیارات گراس روٹ سطح تک منتقل اور بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے۔ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ پاکستان قومی وحدت، ملکی سلامتی اور آئینی بالادستی کے حوالے سے ریڈ لائن ہے، نفرت کے بجائے محبت اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا میری پہچان پاکستان کا بنیادی بیانیہ ہے۔ انہوں نے پالیسی سازی میں ماہرین اور ٹیکنوکریٹس کی شمولیت اور ترقیاتی منصوبوں میں میرٹ، ضرورت اور قومی ترجیحات کو مدنظر رکھنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتیں عوام کو ان کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں، اس حوالے سے فیصلہ سیاسی جماعتوں کے بجائے عوامی رائے سے ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق انتظامی اصلاحات اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر سنجیدہ غور وقت کی ضرورت ہے۔ایم پی پی کے مرکزی کمیٹی انچارج نہال احمد صدیقی نے کراچی کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، انفرااسٹرکچر، روزگار اور دیگر شہری مسائل کے حل کے لیے بااختیار اور جوابدہ بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس کے شرکاء نے ”پہلے ریاست، بعد میں سیاست” اور ”نفرت نہیں، محبت پاکستان کی پہچان” کے پیغام کو ملک بھر میں فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں