لاہور (رپورٹنگ آن لائن)سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ یوم ِ آزادی کی شب سڑکوں پر بے ہنگم شور ، نازیبا حرکات ، لچر پن اور ہلڑ بازی کا ایسا طوفان بدتمیزی برپا رہا کہ اللہ کی پناہ ،جو کوئی کسی کام سے گھر سے نکلا توبہ توبہ کرتا واپس آیا ۔پڑھے لکھوں ، ان پڑھ ، امیر ، غریب ، چھوٹے بڑے کی کوئی تمیز نہیں تھی ۔
اپنے بیان میں اسلام آباد میں 13اور 14اگست کی درمیانی شب ایک سرکاری تقریب کی سکیورٹی کیلئے سب راستے بغیر کسی پیشگی اعلان یکایک بند کر دئیے گئے، ہزاروںخواتین بچے بوڑھے افراد سڑکوں پر کئی کئی گھنٹوں تک خوار ہوئے ، اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔پاکستان بنانے کیلئے اپنی جانیں ، عمریں ، عصمتیں ، جائیدادیں ، گھر بار قربان کرنے والوں کا ذکر کسی سیاسی یا سرکاری تقریب میں کہیں بھی سننے کو نہیں ملا۔
سیاسی جماعتیں حسب ِ روایت سوئی رہیں،انجمن ہائے ستائش باہمی متحرک رہیں۔ انہوںنے کہا کہ اگر بدترین لاقانونیت ، غربت اور دہشتگردی کی شکار ریاست کا یوم آزادی ریاست کو بحرانوں سے نکالنے کی تدبیر کرنے یا اس کے آئین کے تحفظ اور شہریوںکی فلاح کیلئے تجدید عہد کرنے کی بجائے محض جھنڈے لہرانا ، باجے بجانا ، ناچنا ، گانا ،ہلڑبازی ، کیک کاٹنا ، سٹیریو ٹائپ تقریبات اور ایکدوسرے کی تعریفوں میں قلابے ملانا ہی ہے تو یہ بے فکری و بے نیازی ملک و قوم کو بہت مہنگی پڑے گی ۔









