غلام سرور خان

پاکستان، افغانستان کے امن کے لیے ہر ملک سے تعاون کے لیے تیار ہے، غلام سرور خان

ٹیکسلا(رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان کے امن کے لیے ہر ملک سے تعاون کے لیے تیار ہے، کشمیریوں نے نون لیگ کے قائد نواز شریف کے بیانیے کو رد کردیا ہے،تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے تمام جماعتوں نے غیرملکی پالیسی پر افغانستان کی خارجہ پالیسی تیار کی لیکن پہلی مرتبہ ہوا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کابل سے متعلق حتمی پالیسی اپناتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی ڈو مور والی بات نہیں ہوگی،بھارت نے ہمیشہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں دہشت گردی کی ہے اور نئی دہلی کے ان اقدامات اور دبا ﺅکی مذمت کرتے ہیں جو انہوں نے غیرملکی کھلاڑیوں پر ڈالا تھا تاکہ وہ آزاد کشمیر میں کھیلنے نہیں آئیں،

ہفتہ کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے امن کے لیے ہر ملک سے تعاون کے لیے تیار ہے لیکن کابل میں بد امنی میں کسی کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے،وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کا اہم جز یہ تھا کہ خطے میں پاکستان کو تنہا کردیا جائے لیکن بھارت اپنی سازشوں میں ناکام رہا، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان ، روس، امریکا چین سمیت بڑی طاقتوں کے شانہ بشانہ ہے،

غلام سرور نے کہا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں یہ چاروں ممالک موجود ہوں گے اور پر امن افغانستان کے لیے کوئی لائحہ عمل بنا کر اٹھیں گے،آزاد جموں و کشمیر میں کشمیر پریمیئر لیگ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں دہشت گردی کی ہے اور نئی دہلی کے ان اقدامات اور دبا ﺅکی مذمت کرتے ہیں جو انہوں نے غیرملکی کھلاڑیوں پر ڈالا تھا تاکہ وہ آزاد کشمیر میں کھیلنے نہ آئیں، انہوں نے کہا کہ کووڈ 19کی وجہ سے عالمی سطح پر ایوی ایشن انڈسٹری متاثر ہوئی ہے لیکن پاکستان کی سول ایوی ایشن پر وبا کا اثر دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے، آپریشن اخراجات کم ہوئے جبکہ آپریشن ریونیو بڑھے ہیں، رواں سال کا خسارہ گزشتہ کئی برس کے مقابلے میں کم ہواہے اور اندورنی اور مشرق وسطی کے اسپیشل فلائٹس آپریشن کیے گئے جس سے آپریشن ریونیو میں اضافہ ہوا،

قومی ایئر لائن(پی آئی اے)ری اسٹرکچرنگ کی طرف جارہی ہے جس کا پہلا مرحلہ وی ایس ایس ہے جس کے تحت افراد قوت کا دباﺅ کم کیا جائے گا اور ان کے لیے اسیکم کا اعلان کیا گیا تاکہ وہ معاشی بحران سے دوچار نہ ہوں، رواں سال 4نئے طیارے لیز پر شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس پر بات چیت ہورہی ہے، انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے مقابلے ابھی بھی پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہیں، غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے لیے پرعزم ہے اس لیے اپوزیشن کو بھی انتخابی اصلاحات میں حصہ لے کر انتخابات کے عمل کو شفاف بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی جیسے الزامات لگانے سے بہتر ہے کہ اپوزیشن اپنا جمہوری کردا ر ادا کرے،

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عبوری حکومت نونلیگ کی تھی لیکن پھر بھی نون لیگ کی جانب سے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے، کشمیریوں نے نون لیگ کے قائد نواز شریف کے بیانیے کو رد کردیا ہے ،مجھے نواز شریف کی دماغی حالات پر رحم آتا ہے جن کی حکومت میں الیکشن ہوں اور وہ دھاندلی کا الزام لگائیں جبکہ ہم پیپلز پارٹی کی محدود جیت کو تسلیم کرتے ہیں،غلام سرور نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی دھاندلی کا الزام لگارہے ہیں جبکہ انہوں نے مسلم لیگ (ن)سے زیادہ نشستیں جیتیں، ان کی پارٹی کے ناراض رہنما ہی کامیاب ہوئے ہیں کیونکہ ان کی سیاسی بنیاد آزاد کشمیر میں مضبوط تھی،انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے ان کی کشمیر پالیسیوں کو رد کیا اور جتنے جلسے مریم نواز نے کیے ، انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی مودی، ان کی جماعت اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مذمت نہیں کی،غلام سرور نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں محض علاقائی جماعتیں بن کررہ گئی ہیں اور تحریک انصاف فیڈریشن کی جماعت بن کر ابھری ہے اور 22کروڑ عوام نے ہماری پارٹی کے منشور کو تسلیم کیا ہے۔