محمد جاوید قصوری 55

وفاقی حکومت روزانہ اکیس ارب روپے کا قرضہ لے رہی ہے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے قرضوں، مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی نے معیشت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کے ابتدائی دو سالوں کے دوران قرضوں میں پندرہ ہزار آٹھ سو بہتر ارب روپے کا تاریخی اضافہ ہوا، جو کہ مارچ 2024 سے فروری 2026 کے عرصے میں ریکارڈ کیا گیا۔

اس حساب سے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً اکیس ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک جانب عوام کو کفایت شعاری اور سادگی اپنانے کا درس دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومتی اداروں میں مالی بدعنوانی کے سنگین واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں اربوں روپے کی غیر شفاف ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں افسران کو ماضی کی تاریخوں سے ایک ارب انیس کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں، جو کہ قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔محمد جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ سرکاری فنڈز کی غیر قانونی پارکنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال نے عوام کا اعتماد بری طرح مجروح کیا ہے۔ حکمران اشرافیہ اپنی شاہانہ طرز زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے قومی خزانے پر بوجھ ڈال رہی ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کی بھرمار نے عام آدمی کا جینا مشکل کر دیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے واقعات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ جب تک احتساب کا نظام مضبوط نہیں ہوگا، اس وقت تک ملک کو درپیش معاشی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ 2025ء میں7لاکھ 63ہزار 526پاکستانی بیرون ملک روانہ ہوئے جبکہ 2026 ء اپریل کے وسط تک ملک بھر سے 2لاکھ 21ہزار 525ورکرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔برن ڈرین کا یہ سلسلہ خطر ناک ہے۔محمد جاوید قصوری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ ملک کو مزید بحرانوں سے بچایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں