محمد جاوید قصوری 14

نان بائیوں کی جانب سے روٹی اور نان کی قیمتوں میںاضافہ تشویشناک ہے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد نان بائیوں کی جانب سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں کیے گئے اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیوں نے عام آدمی کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے،

نان بائیوں کی جانب سے روٹی کی قیمت میں 9 روپے اور نان کی قیمت میں 10 روپے اضافے کے بعد روٹی 25 روپے اور نان 35 روپے کا ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ بھی چھین لیا ہے۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے نان بائیوں کی جانب سے روٹی اور نان کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے اعلان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا محنت کش، مزدور، دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقہ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم ہوتی قوتِ خرید کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے، لیکن حکومت نے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے بجائے ایسے اقدامات اختیار کیے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں اور مصنوعی اسکیموں کے ذریعے عوام کو سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں، جبکہ عملی طور پر عام شہری کی زندگی میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی مختلف اسکیموں کا اصل فائدہ غریب عوام کے بجائے کرپٹ عناصر، بااثر طبقے اور اشرافیہ کو پہنچ رہا ہے۔ آئے روز اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کی نئی داستانیں سامنے آ رہی ہیں، جس سے عوام کا حکومتی نظام پر اعتماد مزید متزلزل ہو رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سامنے آنے والی کرپشن کے واقعات پوری قوم کے سامنے ہیں، جنہوں نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر فلاحی منصوبوں میں بھی شفافیت یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو مستحق افراد تک ریلیف کیسے پہنچے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پروگرام سمیت تمام سرکاری فلاحی اسکیموں کا آزادانہ اور شفاف آڈٹ کرایا جائے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے، پٹرولیم مصنوعات پر غیر ضروری بوجھ کم کرنے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرے۔ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت عوام کو ریلیف دینے اور معیشت کو عوام دوست بنیادوں پر استوار کرنے کی ہے، نہ کہ نمائشی اعلانات اور وقتی اقدامات کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں