زرانورعباس 40

معاشرے کو خواتین کے جسم پر تبصرہ کرنا بند کرنا چاہیے، زرانورعباس

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)اداکارہ زرا نور عباس نے ماں بننے کے بعد خواتین کو درپیش جسمانی تبدیلیوں، باڈی شیمنگ اور ورکنگ ویمنز پر معاشرتی دباؤ کے خلاف کھل کر آواز بلند کی ہے۔ایک حالیہ انٹرویو میں زرا نور عباس نے اپنی ذاتی زندگی، کیریئر اور زچگی کے بعد آنے والی تبدیلیوں پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں خواتین سے یہ غیر حقیقی توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ حمل کے فوراً بعد پہلے جیسی شکل میں واپس آجائیں، جو کہ نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ ذہنی دبا کا باعث بھی بنتا ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ ماں بننے کے بعد عورت کی زندگی مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ ان کے مطابق زچگی نے انہیں زیادہ نرم مزاج، پرسکون اور جذباتی طور پر زیادہ حساس بنا دیا ہے، اور وہ اب لوگوں خصوصاً دیگر ماں کے احساسات کو پہلے سے بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں۔زرا نور عباس نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ خواتین بیک وقت کیریئر اور گھریلو ذمے داریاں نبھانے کے قابل نہیں ہوتیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ سوچ پرانی اور غیر حقیقت پسندانہ ہے، جبکہ خواتین دونوں کردار بخوبی ادا کر سکتی ہیں اگر انہیں سپورٹ حاصل ہو۔انہوں نے شوبز انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر ہونے والی باڈی شیمنگ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اپنے کیریئر کے دوران بار بار وزن اور جسمانی ساخت پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض اوقات انہیں یہ بھی کہا گیا کہ وہ انڈسٹری کے معیار کے مطابق نہیں ہیں۔

اداکارہ نے انکشاف کیا کہ کچھ برانڈز نے صرف ان کی جسمانی ساخت کی وجہ سے ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا، جس سے ان کے اعتماد کو شدید دھچکا لگا۔زرا نور عباس نے کہا کہ ایسی تنقید انہیں جذباتی طور پر متاثر کرتی رہیں، یہاں تک کہ کئی بار وہ رونے پر مجبور ہوئیں، تاہم بعد میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اب دوسروں کی رائے کو اپنی پہچان طے نہیں کرنے دیں گی۔انہوں نے زور دیا کہ معاشرے کو خواتین کے جسم پر تبصرہ کرنا بند کرنا چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب وہ ماں بننے جیسے مشکل اور تکلیف دہ مرحلے سے گزری ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں