مریم اورنگزیب 285

مسئلہ کشمیر پر بات کرنا وقت کی ضرورت ہے ،مسئلہ کشمیر ہمارے اپنے مسائل کی وجہ سے پس منظر پر چلا گیا، مریم اورنگزیب

راولپنڈی (رپورٹنگ آن لائن)مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر دوبارہ بات کرنا وقت کی ضرورت ہے ،مسئلہ کشمیر ہمارے اپنے مسائل کی وجہ سے پس منظر پر چلا گیا، کشمیر پاکستان کا حصہ ہے یہ فیصلہ ہو چکا ہے،پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہندوستان کا وزیر اعظم پاکستان چل کر آیا، ،ایک مضبوط طاقتور پاکستان ہی کشمیریوں کو انکا حق دلا سکتا ہے، پاکستان کی منتخب قیادت ہی کشمیریوں کی نمائندگی کرسکتی ہے۔

ہفتے کو مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقدہ کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کے رہنے والوں کو تاریخی جدوجہد پر سلام پیش کرتی ہوں،کشمیری شہدانے نسل درنسل عظیم قربانیاں دے کر پوری دنیا اور غاصب بھارت پر ثابت کردیا ہے کہ طاقت، جبر اور ظلم کی کوئی بھی انتہاانہیں ان کے آزادی کے حق سے دستبردار نہیں کرسکتی،کشمیر کی مائیں،بزرگ، بہنیں، بیٹیاں، معصوم بچے، ہر طبقے کی قربانیاں سونے کے پانی سے لکھے جانے کے قابل ہیں، اپنے شہید نانا کے سینے پر بیٹھا معصوم کشمیری بچہ پوری دنیا کے ضمیر کے لئے سوال ہے، یہ بچہ سوال کررہا ہے کہ ان کا ناحق خون بہانے والوں کو کب کٹہرے میں کھڑا کیاجائے گا؟

انہوں نے کہا کہ کشمیر کو پاکستان سے کوئی نہیں چھین سکتا ہے،ہم اگر ٹھیک ہو جائیں تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا پڑے گا، گھر ٹھیک کرنے کے حوالے سے نواز شریف کیخلاف فتوے آئے، ہم اپنا گھر ٹھیک نہیں کرینگے تو عالمی دنیا میں ہمارا ہر مقدمہ کمزور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر دوبارہ سے ڈیبٹ شروع کرنا وقت کی ضرورت ہے ،مسئلہ کشمیر ہمارے اپنے مسائل کی وجہ سے پس منظر پر چلا گیا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہماری زندگی کا حصہ ہے ، مقبوضہ کشمیر میں بربریت کی انتہا کی جا رہی ہے،مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندی ہے، بھارت چاہیے جتنا ظلم کر لے کشمیری اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، کشمیر پاکستان کا حصہ ہے یہ فیصلہ ہو چکا ہے،پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہندوستان کا وزیر اعظم پاکستان چل کر آیا،ہندوستان کے وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ مسئلہ کشمیر پر بات ہونی چاہیے، ہندوستان نے 5 اگست کو کشمیر پر شب خون مارا ۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز کھڑے ہوکر، شاہراہوں کا نام تبدیل کرکے کشمیریوں کو انکا حق نہیں ملتا،ایک مضبوط طاقتور پاکستان ہی کشمیریوں کو انکا حق دلا سکتا ہے، حکومت وقت اور سیاسی قیادت کے رول کو واضح کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 2018کے الیکشن کے بعد سیاسی افراد تفری ہے.اس افراد تفری نے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالا.ہماری خارجہ پالیسی کو بھی ہمیں دیکھنا ہوگا.5اگست کا واقعہ کیوں پیش آیا، یہ سوچنے والی بات ہے.

نواز شریف خود ایک کشمیری ہیں،پاکستان کی منتخب قیادت ہی کشمیریوں کی نمائندگی کرسکتی ہے،اشرف صحرائی، ان کے بیٹے، مظفر وانی سمیت ہر کشمیری شہید کا وارث اور آزادی کی جدوجہد کا عظیم وارث ہے۔رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر عالمی برادری کی خاموشی پر سوال کیوں نہیں اٹھتا ؟ سابق بھارتی وزیر اعظم نے دورہ پاکستان کے موقع پر مسئلہ کشمیر کے حل کی با ت کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں