ہائیکورٹ 16

لاہور ہائیکورٹ کا بغیر نوٹیفکیشن بسنت کو چیلنج کرنے پر برہمی کا اظہار

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )لاہور ہائیکورٹ نے بسنت 2027 کے 10 روزہ انعقاد کے خلاف نوٹیفکیشن لف کئے بغیر درخواست دائر کرنے پر برہمی کا اظہار کیا جبکہ عدالت کے اعتراضات کے بعد درخواست گزار کے وکیل نے درخواست واپس لے لی جس پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چودھری نے شہری شاہد اسلام کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالت نے بسنت کے انعقاد کو کسی باضابطہ نوٹیفکیشن کے بغیر چیلنج کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ جسٹس شہرام سرور چودھری نے استفسار کیا کہ نوٹیفکیشن کے بغیر بسنت کو کیسے چیلنج کردیا گیا اور درخواست پر اعتراض کیوں نہیں لگایا گیا۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بسنت کے انعقاد سے متعلق معلومات سرکاری ویب سائٹ اور اخبارات سے حاصل کی گئی ہیں۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ویب سائٹ سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر درخواست کیسے دائر کی جاسکتی ہے؟ درخواست کے ساتھ تمام دستاویزات غیر مصدقہ ہیں، پہلے باضابطہ نوٹیفکیشن حاصل کرکے اسے چیلنج کریں، پھر حکومت سے جواب طلب کیا جائے گا۔

عدالت نے مزید ریمارکس دئیے کہ درخواست گزار حق معلومات کے تحت متعلقہ نوٹیفکیشن کی مصدقہ نقل حاصل کرسکتا ہے۔ جسٹس شہرام سرور چودھری نے درخواست کو جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کا عندیہ بھی دیا اور ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کو طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ درخواست پر اعتراض کیوں نہیں لگایا گیا۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے بسنت کے انعقاد پر پابندی اور گزشتہ برس ہونے والی ہلاکتوں کا حوالہ دیا جس پر عدالت نے قانونی تقاضوں کے مطابق دلائل دینے کی ہدایت کی۔ درخواست گزار کے بار بار خود بولنے پر بھی عدالت نے اظہار تشویش کیا اور ریمارکس دئیے کہ وکیل کے ہوتے ہوئے درخواست گزار کا بار بار مداخلت کرنا مناسب نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں