فواد چوہدری 16

فواد چوہدری کا حکومت سے کوٹ لکھپت کے قیدیوں کیلئے ریلیف اور مذاکرات میں اصل قیادت کو شامل کیے جانے کا مطالبہ

جہلم(رپورٹنگ آن لائن)سابق وفاقی وزیرفواد چوہدری نے حکومت سے کوٹ لکھپت کے قیدیوں کیلئے ریلیف اور مذاکرات میں اصل قیادت کو شامل کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔یہاں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں کو ریلیف ملنا چاہیے، تاہم حکومت اس کیلئے تیار نہیں جبکہ شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور دیگر رہنمائوں کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی میں موجود اجنبی لوگ مذاکرات کر رہے ہیںجبکہ مذاکراتی عمل میں شامل افراد کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں، ایسی صورت حال میں پارٹی کی موجودہ قیادت قصور وار ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت ایسی کارروائیاں کر رہی ہے جن سے مذاکرات آگے نہ بڑھ سکیں۔انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف میں وکلا کو اس امید پر شامل کیا گیا تھا کہ عدالتوں سے انصاف ملے گا، لیکن وہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اب عدالتوں سے ریلیف کی امید بھی نہیں جبکہ دوسری طرف موجودہ لوگ سیاسی جدوجہد بھی نہیں کر سکتے۔وفوادچوہدری نے کہاکہ تحریک انصاف کو وقت کے ساتھ اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی،جب تک پارٹی موجودہ قیادت کو الگ نہیں کرتی، وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔

فواد چوہدری نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بھی نئے صوبوں کے حامی ہیں اور ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو نئے صوبوں کے معاملے پر تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنی چاہیے۔انہوںنے دعویٰ کیاکہ15دسمبر سے پہلے اٹھائیسویں آئینی ترمیم آ جائے گی، جس کے بعد ملک میں 15سے 17نئے صوبے بن سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف صوبوں کے معاملے پر موثر سیاست کرے تو عمران خان کی رہائی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔فواد چوہدری نے پنجابی شعر کے ذریعے تحریک انصاف کی موجودہ صورت حال بھی بیان کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں