اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ حقوق کی جنگ نہیں بلکہ بھارت کی طرف سے مسلط کی گئی پراکسی وار ہے، پوری قوم کا عزم ہے کہ پاکستان میں امن و خوشحالی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے۔
جمعہ کو یہاں پھلگراں میں ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سنٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی 50 فیصد آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے، یہاں سے مریضوں کو علاج معالجہ کیلئے شہر کے بڑے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے جبکہ اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں میں خیبرپختونخوا، جہلم، مری اور کوٹلی ستیاں تک سے لوگ آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پمز میں روزانہ 400 سے 500 تک مریض آتے تھے اب یہی تعداد بڑھ کر 8 سے 10 ہزار تک مریض روزانہ ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے 1163 ارب روپے صحت کے شعبہ کیلئے مختص کئے ہیں، ہمارے اسلام آباد کے 22 بنیادی مراکز صحت ہیں جن میں سے بہت سے یونٹ فعال نہیں ہیں، ان کو فنکشنل بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت مصطفی کمال صحت کے شعبہ کیلئے بہترین کام کر رہے ہیں، جس عزم کا اظہار انہوں نے کیا ہے اگر اس پر عملدرآمد کیا جائے تو آدھی سے بھی کم رقم میں ہم اپنی آبادی کو بغیر کسی مشکل کے صحت کی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عزم ہے کہ ریفارمز اور پالیسی میکنگ کے ذریعے ہم ان تمام مسائل پر قابو پا سکتے ہیں، صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک ملاقات میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گزارش کی تھی کہ ہمیں صحت کی سہولیات کی فراہمی میں جامع منصوبہ بندی سے کام لینا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ 2009 میں امریکہ کے سرکاری دورہ کے دوران میں نے دیکھا کہ وہاں ایک ہسپتال میں روبوٹک سرجری ہو رہی ہے، دنیا میں اب ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈاکٹر دوسرے ملک میں بیٹھ کر بھی آپریشن کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھلگراں میں ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ یونٹ کا قیام ایک احسن اقدام ہے، اس ماڈل بنیادی مرکز صحت کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، علاقہ کی مائیں، بہنیں یہاں آ کر اپنا علاج کرا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اب ساری کی ساری جنگ دماغ اور ٹیکنالوجی کی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی قریب میں بھارت کے خلاف جنگ میں ہمیں سرحد پار نہیں جانا پڑا، ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی اللہ نے پاکستان کو بے مثال کامیابی عطا کی، ٹیکنالوجی کے میدان میں جس نے ترقی کی وہ آگے نکل گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے اسلام آباد کے تمام بنیادی مراکز صحت میں یہ سہولیات لائیں گے، ہماری کوشش اور ترجیح ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں ملک کے ہر شعبے میں پاکستان کا نام روشن ہو۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر قیادت پاکستان کی سفارتکاری کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کوئٹہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں ہمارے 40 سے زائد بہادر جوانوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اب حقوق کی جنگ نہیں ہو رہی بلکہ بھارت نے ہم پر پراکسی وار مسلط کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلے شکوے ہر صوبے میں ہوتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ کس صوبے کو کیا کیا وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں، پوری قوم کا عزم ہے کہ پاکستان میں امن و خوشحالی کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔









