سپریم کورٹ 90

سپریم کورٹ کراچی رجسٹر ی کا ملازم کو تنخواہ جاری نہ کرنے پر محکمہ صحت سندھ پر اظہار برہمی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے محکمہ صحت کے ملازم کو تنخواہ جاری نہ کرنے کیخلاف اپیل پر محکمہ صحت سندھ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے سیکرٹری صحت سندھ سے جواب طلب کرلیا ہے ۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں عدالتی احکامات کے باوجود محکمہ صحت کے ملازم کو تنخواہ جاری نہ کرنے کیخلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ عدالتی احکامات کے باوجود ملازم کو تنخواہ جاری نہ کرنے پر عدالت محکمہ صحت سندھ پر برہم ہوگئی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیٔے کہ ایک سال ہوچکا ابھی تک عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہی نہیں کیا۔ چھوٹی چھوٹی بات پر کئی کئی سال آپ لوگوں کے ضائع کردیتے ہیں۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کہاں ہیں سیکریٹری صحت سندھ؟ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ ایڈیشنل سیکریٹری برائے صحت آئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیٔے کہ پوچھ کر بتائیں درخواستگزار کو کب تک تنخواہ جاری کی جائے گی؟ ورنہ سیکریٹری صحت کو شوکاز نوٹس جاری کرکے توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار کا تقرر 2011 میں ہوا تھا 2024 میں سپریم کورٹ نے تنخواہ جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیٔے کہ کتنی تنخواہ مقرر کی گئی ہے اگر اتنے عرصے سے تنخواہ ہی نہیں مل رہی تو گزارا کیسے کرتا ہے۔ وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار میڈیکل کالج خیرپور میں چوکیدار ہے 31 ہزار روپے تنخواہ مقرر کی گئی تھی۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیٔے کہ چوکیدار تو اصل بندہ ہوتا ہے اصل کام ہی چوکیدار کرتا ہے۔ عدالت نے سیکریٹری محکمہ صحت سندھ سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ سیشن تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں