پنگریو(رپورٹنگ آن لائن)ملک میں زرعی شعبہ ایک بار پھر مہنگائی کی زد میں آگیا ہے، جہاں سونا ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں 400 روپے فی بیگ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 18 مئی 2026 سے کردیا گیا ہے، جس کے بعد کسانوں کی پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے سونا ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں خام مال کی بڑھتی قیمتوں، درآمدی لاگت میں اضافے اور سپلائی چین پر دبا کے باعث کیا ہے۔
قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد سونا ڈی اے پی کھاد کی فی بیگ قیمت تقریبا 15 ہزار 600 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔زرعی ماہرین نے کہا کہ ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ملک میں گندم، کپاس، گنا اور دیگر اہم فصلوں کی پیداواری لاگت کو تیزی سے بڑھا رہا ہے، جس سے سب سے زیادہ متاثر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ فصلوں کی پیداوار، معیار اور کسانوں کے منافع پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے کسانوں کے لیے بروقت کھاد کا استعمال بھی مشکل ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں کمی اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
کسان تنظیموں نے کھاد کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ کسان رہنمائوں نے کہا کہ زرعی شعبہ پہلے ہی بجلی، ڈیزل، بیج اور زرعی ادویات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث شدید دبا کا شکار ہے، جبکہ کھاد کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو سبسڈی اور خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ زرعی شعبے کو مزید بحران سے بچایا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کھاد کی قیمتوں پر موثر کنٹرول نہ کیا گیا تو نہ صرف زرعی معیشت متاثر ہوگی بلکہ ملک میں مہنگائی اور غذائی بحران کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔زرعی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ کھاد کی قیمتوں میں استحکام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، درآمدی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور کسانوں کو آسان شرائط پر زرعی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ملکی غذائی تحفظ اور زرعی پیداوار کو برقرار رکھا جاسکے۔









