کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ نے ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان لڑکی کے قتل کے مقدمے میں ملزم محمد نبی کی ٹرائل کورٹ سے سنائی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا، جبکہ دیگر دفعات کے تحت آٹھ برس قید اور چار لاکھ روپے جرمانے کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ 2019 میں گلشن اقبال کے علاقے میں ملزمان نے مقتولہ مصباح اختر اور ان کے والد سے لوٹ مار کی تھی۔ مزاحمت پر ملزمان نے 22 سالہ مصباح اختر کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔دوران سماعت وکیل صفائی نے ملزم کی سزا میں نرمی کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں اور وہ پہلی مرتبہ اس نوعیت کے مقدمے میں ملوث پایا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فوجداری نظام کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ اصلاح اور بحالی کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ جسٹس شمس الدین عباسی نے ریمارکس دیے کہ ملزم نوجوان ہے اور اس کا کوئی سابقہ کرمنل ریکارڈ موجود نہیں، اس لیے اس میں اصلاح کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ سزائے موت صرف ایسے مقدمات میں دی جانی چاہیے جہاں رعایت یا اصلاح کا کوئی پہلو موجود نہ ہو۔ انہی نکات کی بنیاد پر عدالت نے ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی۔









