کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ میں محکمہ سیاحت (ٹورازم ڈیپارٹمنٹ) کے ڈائریکٹر روشن کناسرو کو ترقی نہ دیے جانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی، جہاں سیکریٹری سروسز سندھ کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کرا دیا گیا۔
سرکاری جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ روشن کناسرو کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کے مقدمات زیر التوا ہونے کے باعث انہیں محکمانہ ترقی کے لیے زیر غور نہیں لایا گیا، تاہم آئندہ محکمانہ پروموشن کمیٹی (ڈی پی سی) کے اجلاس میں ان کا نام زیر غور لایا جائے گا۔درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر سرفراز میتلو نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف انکوائری یا مقدمہ دو سال سے زائد عرصہ زیر التوا رہنے کی صورت میں اس کی ترقی نہیں روکی جا سکتی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ روشن کناسرو کے خلاف مقدمہ بھی دو برس سے زائد عرصے سے زیر سماعت ہے، لیکن اب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوا، اس لیے ترقی روکنا قانون اور سروس رولز کے منافی ہے۔دلائل سننے کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے سیکریٹری سروسز سندھ کے جواب پر درخواست گزار کے وکیل سے جواب الجواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اگست کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔









