کراچی (رپورٹنگ آن لائن) قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے وزیراعظم و صدر پاکستان کو بھجے گئے خط لکھا کہ سندھ میں تمام جمہوری اقدار کو پامال کیا جاتا ہے، صوبے میں سویلین آمریت کا راج ہے ،سندھ اسمبلی کی کارروائی ایک طرفہ چلائی جاتی ہے، کئی ماہ سے اپوزیشن لیڈر کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ۔
بدھ کو پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، چاروں صوبوں کے گورنر، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو بھی خط ارسال کیا ہے۔ وزیر اعظم و صدر پاکستان کو ارسال کیے گئے خط لکھا کہ پیپلزپارٹی نے سندھ میں اپوزیشن کو پی اے سی کی چیئرمین شپ نہیں دی، اپوزیشن لیڈر کو گزشتہ بجٹ اجلاس کی تقریر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، اپوزیشن اراکین میں سے کسی کو بھی قائمہ کمیٹی میں رکنیت نہیں دی گئی ہے،جمہوریت کے حامیوں نے سندھ میں تمام جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، سندھ کے عوام سندھ میں جمہوریت کے کمزور ہونے پر پریشان ہیں، جمہوریت کے جھوٹئے دعویدار ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اسمبلی کا تقدس پامال کر رہے ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے وزیراعظم کو خط میں بتایاکہ قراردادوں، تحریک التوا اور دیگر پارلیمانی کارروائیوں میں نظراندازکرکےعوام کی آوازکودبایاجارہا ہے، جمہوریت کے جھوٹے رکھوالے سندھ میں جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں،جمہوری نظام میں تمام پارلیمانی جماعتوں کو قائمہ کمیٹیوں میں متناسب نمائندگی دی جاتی تھی ، سندھ میں ان روایات کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے، سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کی موجودہ غیر جمہوری پالیسی پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔









