کراچی(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ سندھ بدترین کرپشن کی مثال بن چکا ہے، جس کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہیں، صوبے کے ہر ادارے پر وڈیرہ شاہی ذہنیت غالب ہے، ایسے حالات میں لوگوں میں نفرت اور احساس محرومی پیدا ہونا فطری امر ہے۔
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں، جس کا طریقہ آئین میں موجود ہے، تاہم نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ نظام کے باعث سیاسی جماعتوں کی جگہ بادشاہت کا تصور غالب آچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو صوبائی مالیاتی کمیشن کا ایوارڈ دیا جائے اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرح تیسری سطح پر بااختیار بلدیاتی حکومتیں ہونی چاہئیں، چاروں صوبوں میں بلدیاتی نظام مربوط اور بااختیار ہونا چاہیے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر اختیارات اور سہولیات میسر آسکیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انتظامی معاملات کے حوالے سے سندھ میں حساسیت زیادہ ہے، جب بھی انتظامی یونٹس کا معاملہ سامنے آتا ہے تو پیپلز پارٹی اس میں لسانی تعصب کو ہوا دیتی ہے، حالانکہ عوام اپنے مسائل کے حل اور اختیارات کا مطالبہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سندھ میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کو نہ مناسب سڑکیں مل رہی ہیں اور نہ پانی کی فراہمی بہتر ہے، شہر کے مختلف اداروں میں ایس ایچ اوز، بیوروکریسی، کالج پرنسپلز اور جامعات کے انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کا جائزہ لیا جائے تو کراچی اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے افراد کی نمائندگی کا اندازہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر انتظامی معاملات میں بندر بانٹ کا سلسلہ جاری رہا اور کراچی کے عوام کو ان کا حق اور اختیار نہ دیا گیا تو کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔









