اینڈی برنہم 14

روس نے 2016 کے بریگزٹ ووٹ میں مداخلت کی تھی،برطانوی وزیرِ اعظم

لندن (رپورٹنگ آن لائن)برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے کہاہے کہ یہ واضح ہے کہ روس نے 2016 میں برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے ریفرنڈم میں مداخلت کی تھی، اینڈی برنہم کے اس بیان کو کسی بھی برطانوی وزیرِاعظم کی جانب سے اس معاملے پر پہلا باضابطہ عوامی اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اینڈی برنہم نے کہا کہ میں نے وزیرِاعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد اس معاملے کی تصدیق چاہی جس پر مجھے واضح جواب ملا کہ روس نے مداخلت کی تھی۔پوڈ کاسٹ کے دوران اینڈریو برنہم نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت یا تفصیلات پیش نہیں کیں۔برنہم نے کہا کہ اس معاملے کو ریکارڈ پر لانا ضروری ہے تاکہ فرانس اور جرمنی کے ووٹرز بھی سمجھ سکیں کہ بعض سیاسی سرگرمیوں کے پیچھے روس جیسے مخالف ممالک کا کردار ہو سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے برلن میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی اور روس کے ممکنہ روابط پر بھی بات ہوئی۔برطانوی وزیرِاعظم نے ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران 2019 کے برطانوی عام انتخابات میں روسی مداخلت کی کوششوں کی بھی مذمت کی تھی۔

برطانوی پارلیمان کی انٹیلیجنس و سیکیورٹی کمیٹی کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے 2016 کے ریفرنڈم میں روسی مداخلت کا تفصیلی جائزہ لینے کی درخواست نہیں کی تھی، تاہم رپورٹ میں 2014 کے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے ریفرنڈم میں روسی مداخلت کی تصدیق کی گئی تھی۔دوسری جانب روس مغربی جمہوریت پسند اور دوسرے ممالک کے انتخابات میں مداخلت کے الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے اور برطانیہ پر روس مخالف بے بنیاد خوف پھیلانے کا الزام عائد کرتا ہے۔اینڈی برنہم نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ برطانیہ کو یورپی یونین کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے تمام امکانات پر دوبارہ غور کرنا چاہیے جن میں یونین میں دوبارہ شمولیت بھی شامل ہے۔اینڈی برنہم کے مطابق یورپی یونین سے علیحدگی کے حامیوں کا برطانیہ کا اختیار واپس لینے کا وعدہ پورا نہیں ہوا بلکہ اس فیصلے نے ملکی معیشت کو کمزور کیا اور امیگریشن کے مسائل میں بھی بہتری نہیں لائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں