سپریم کورٹ آف پاکستان 17

خواتین کیخلاف جرائم کی تفتیش میں صنفی حساس طریقہ کار اپنایا جائے،سپریم کورٹ

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے خواتین کے خلاف صنفی بنیاد پر جرائم اور گھریلو قتل کے مقدمات میں پولیس تفتیش پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ گھر کی چار دیواری کو مجرم کے احتساب سے بچنے کی ڈھال نہیں بننے دیا جا سکتا جبکہ عدالت نے خواتین کے تحفظ کے لیے تفتیش اور عدالتی جانچ کو صنفی حساس انداز میں کرنے پر زور دیا ۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے کراچی میں اپنی اہلیہ عقیلہ بی بی کے قتل کے مجرم حبیب اللہ کی جیل پٹیشن مسترد کرتے ہوئے عمر قید اور مقتولہ کے ورثا کو 5 لاکھ روپے معاوضے کا حکم برقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے گھریلو تشدد اور گھر میں بیوی کے قتل کو مشکل کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم بند گھر میں ہوتے ہیں جہاں ملزم کو ماحول پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے، شواہد ضائع کیے جا سکتے ہیں اور قتل کو خودکشی یا حادثہ ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے مقدمات میں سچ بھی بند دروازوں کے پیچھے چھپ سکتا ہے، جسے سامنے لانا قانونی نظام کی ذمہ داری ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ازدواجی گھر میں بیوی کی غیر فطری موت پر شوہر کے خلاف جرم کا کوئی خودکار مفروضہ قائم نہیں ہوتا، تاہم قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کے تحت خصوصی علم میں موجود حقائق کی وضاحت متعلقہ شخص پر لازم ہے۔

غیر فطری موت اور شوہر کی جانب سے قابلِ قبول وضاحت نہ آنا حالات و واقعات پر مبنی شواہد کی مضبوط کڑی بن سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ملزم کے بے گناہی کے مفروضے اور قانونی تحفظات برقرار رہیں گے، تاہم انہیں خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف حقیقی جرائم میں انصاف کی راہ روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے تفتیشی خامیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والا خون آلود ہتھوڑا اور چادر عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔ اسے پولیس کی سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مشکل ثبوت والے جرائم میں ایسی لاپروائی انصاف کے حصول کو مزید دشوار بنا دیتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کے خلاف جرائم کی تفتیش میں پدر شاہی سوچ اور صنفی تعصب ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

صوبائی حکومتیں پولیس افسران کی صنفی حساس تربیت یقینی بنائیں اور تفتیشی غفلت کے ذمہ دار افسران کا احتساب کریں۔ عدالت نے گھریلو قتل کے واقعات کے منظم جائزے کے لیے برطانیہ کےDomestic Homicide Reviews جیسے طریقہ کار پر غور کرنے کی تجویز بھی دی۔سپریم کورٹ نے خواتین کے قتل کے بعد ان کے کردار پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات عورت کو قتل کرنے کے بعد اس کے کردار کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ جرم کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی ملزم کو مقتولہ کے کردار کو قتل کا جواز بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے کہا کہ ایک عورت کو زندگی میں سکون سے جینے نہیں دیا جاتا اور موت کے بعد بھی اسے عزت و وقار کے ساتھ رہنے نہیں دیا جاتا۔ کمسن بچوں کے بیانات، میاں بیوی کو آخری مرتبہ ایک ساتھ دیکھے جانے، ملزم کے ہتھوڑا گھر لانے، طبی شواہد، فرار اور تقریبا سات سال مفرور رہنے سمیت تمام شواہد جرم کی مکمل کڑی ہیں۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں قانونی بے ضابطگی نہ پاتے ہوئے حبیب اللہ کی اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد اور عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں