آصف علی زرداری 13

خواتین سفارتکاروں نے اقوام کے درمیان مکالمے، باہمی فہم و ادراک اور تعاون کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، صدر زر داری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ خواتین سفارتکاروں کے عالمی دن کے موقع پر ہم ان خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اقوام کے درمیان مکالمے، باہمی فہم و ادراک اور تعاون کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، ان کی کاوشوں نے بین الاقوامی روابط کو مضبوط بنایا اور مشکل اور غیر یقینی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

خواتین سفارتکاروں کے عالمی دن کے موقع پر منگل کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی سفارتکاری اور قومی زندگی میں خدمات کی ایک درخشاں روایت موجود ہے، بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بیرونِ ملک پاکستان کی باوقار اور مثر نمائندگی کی، بیگم شائستہ اکرام اللہ، ایک ممتاز سفارتکار اور پارلیمنٹیرین تھیں جو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے اولین نمائندوں میں شامل رہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کے فروغ اور نئی آزاد ہونے والی اقوام کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو، عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں جنہوں نے پاکستان کے بین الاقوامی روابط کو وسعت دی اور عالمی فورمز پر ملک کے مقام کو مزید مستحکم کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ پاکستانی خواتین نے دفترِ خارجہ اور سفارتی خدمات کے مختلف اعلی مناصب پر فرائض انجام دیئے ہیں جن میں سفیر، مستقل مندوب، سیکرٹری خارجہ اور مشن سربراہ جیسے اہم عہدے شامل ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات، اقوامِ متحدہ اور دیگر کثیرالجہتی اداروں میں پاکستان کی موثر نمائندگی کی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ان کی خدمات سفارتکاری کے تمام شعبوں میں نمایاں ہیں، وہ پاکستان کے قومی مفادات کے فروغ کے ساتھ ساتھ رابطے اور مکالمے کے دروازے کھلے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں خصوصا ریاستوں کے درمیان کشیدگی کے دوران جب محتاط مذاکرات کی ضرورت پیش آتی ہے، مسلح تنازعات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، موسمیاتی چیلنجز، تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں اور نئے سلامتی خطرات سے متثر موجودہ دور میں ان کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سفارتکاری کا بنیادی مقصد امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے سازگار حالات پیدا کرنا ہے، ان مقاصد کے حصول کے لئے جامع تیاری، منظم مذاکرات، جزئیات پر گہری توجہ اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

خواتین سفارتکاروں نے ان تمام شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور اپنی پیشہ وارانہ مہارت، قابلیت اور عوامی خدمت کے جذبے کے ذریعے سفارتی اداروں کو مضبوط بنانے میں مسلسل کردار ادا کر رہی ہیں۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان عوامی خدمات کے تمام شعبوں میں مساوی مواقع کی فراہمی کے لئے پرعزم ہے، ہمارا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور قانون کے تحت یکساں سلوک کی ضمانت دیتا ہے اور ہم قومی اداروں بالخصوص دفترِ خارجہ میں خواتین کی بھرپور شمولیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، آج پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد سفارتی مشنز اور بین الاقوامی تنظیموں میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہی ہے اور پیچیدہ مذاکرات و مشکل حالات میں اہم ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ حالیہ سفارتی پیشرفت نے ایک بار پھر مستقل رابطے اور خاموش سفارتکاری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی تشکیل میں پاکستان کی معاونت اسی طرزِ عمل کی عکاس ہے جس کی بنیاد مکالمے اور کشیدگی میں کمی پر ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانی خواتین سفارتکاروں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں ان کوششوں میں حصہ ڈالا ہے اور اقوامِ متحدہ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کے مثر کردار کے فروغ میں اہم خدمات انجام دے رہی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس موقع پر وہ پاکستان کی تمام موجودہ اور سابق تمام خواتین سفارتکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کی خدمات نے بیرونِ ملک پاکستان کے وقار اور ساکھ کو مضبوط بنایا ہے اور ہماری سفارتی کاوشوں کو مزید موثر اور بامعنی بنایا ہے، ان کی شراکت ایک ایسے مسلسل قومی عزم کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان سنجیدگی، نظم و ضبط اور واضح مقصد کے ساتھ دنیا سے روابط استوار رکھنے کے لئے کوشاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں