محمد جاوید قصوری 20

حکومتی سطح پر بھی کتاب میلوں کا انعقاد ہونا چاہیے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیرجماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی و کامیابی کی منازل طے کرتی ہیں جو کتاب اور علم سے اپنا رشتہ مضبوط رکھتی ہیں، کتاب محض معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور، تحقیق، فکری بالیدگی اور کردار سازی کا اہم وسیلہ ہے،نوجوان نسل میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،

اس مقصد کے لیے حکومت کو بھی قومی سطح پر کتاب میلوں کے انعقاد اور کتب بینی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں منعقدہ بک فیئر کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر صوبہ نے بک فیئر میں قائم مختلف اسٹالز کا وزٹ کیا اور کتابوں کے انتخاب، انتظامات اور اسٹالز پر موجود طلبہ کی محنت کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی مثبت سرگرمیاں نوجوانوں میں علم حاصل کرنے، تحقیق کرنے اور مطالعے سے محبت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں کتاب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

اگرچہ جدید ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن گہرا مطالعہ انسان میں سوچنے، سمجھنے، تجزیہ کرنے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ مطالعے کو بھی معمول بنائیں، کیونکہ علم ہی وہ قوت ہے جو انسان کو حالات کا مقابلہ کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کتابوں سے دوری کسی بھی معاشرے کے لیے فکری جمود کا باعث بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گھروں، تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور عوامی مقامات پر کتاب دوستی کے ماحول کو فروغ دیا جائے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے لیے سستی اور معیاری کتابوں کی فراہمی یقینی بنائے، سرکاری تعلیمی اداروں میں لائبریریوں کو فعال کرے اور مختلف شہروں میں باقاعدگی سے کتاب میلوں کا انعقاد کرے، تاکہ ہر طبقے کے نوجوانوں کو علم کے حصول کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔قبل ازیں پنجاب یونیورسٹی پہنچنے پر اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمہ داران نے محمد جاوید قصوری کا پُرتپاک استقبال کیا۔ امیر صوبہ نے بک فیئر کے انعقاد کو سراہتے ہوئے منتظمین اور طلبہ کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایسی سرگرمیاں نوجوان نسل میں علم و ادب سے وابستگی مضبوط بنانے اور ایک باشعور، باصلاحیت اور فکری طور پر مستحکم معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں