لاہور (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سوال یہ ہے کہ جیت کون رہا ہے ، مقتدرہ ، حکومت یا اپوزیشن ؟، لیکن کوئی بھی نہیں جیت رہا،بدقسمتی سے نا انصافی ، غربت ، لا قانونیت ، انتشار ، انتقام ، تعصبات ،آمرانہ رویے اور انتہا پسندی بڑھ رہے ہیں اور جیت رہے ہیں،ان سے کون لڑے گا کون فاتح ہوگا؟۔اپنے بیان سعد رفیق نے کہا کہ ان عذابوں سے لڑ کر جیتنے کے ذمہ دار تو آپس میں گتھم گتھا ہیں پھرقوم کو نجات کون ، کب اور کیسے دلائے گا ؟ماضی کی غلطیوں سے سبق کیوں نہیں سیکھا جا رہا؟۔واضح ہونا چاہیے کہ انائوں اور ذاتی و گروہی مفادات کیلئے اپنی توانائیاں اور وسائل اندرونی جھگڑوں میں ضائع کرنے والے نجات دہندہ نہیں ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ دہائیاں سے ارتکاز اختیار اور اپنے مخالفین کو ہر قیمت پر نیچا دکھانے کا گھنائونا کھیل کھیلا گیا ، لوگوں کی برداشت اور صبر جواب دے چکے ہیں،چنگاریوں کے بارود کے ڈھیر پر گرنے سے پہلے بچا جائے ۔ سعد رفیق نے کہا کہ ملک کے تمام حصوں اور کونوں سے اہل دانش اور اہل درد آواز بلند کریں ، آئین کی بالادستی اور قومی پرچم کی حرمت پر یقین رکھنے والے اکٹھے ہوں، بیداری کی لہر پیدا کریں ،ایمان ،آئین ،انصاف ،امن ،اتحاد ،اصلاحات اوراستحکام کا علم بلند کریں ،ایک دوسرے سے ڈرنا ، بدکنا یا لڑنا قوم کے بیچ گہری دراڑیں ڈال دیتا ہے ، پھر ایک زلزلہ ہی تباہی کیلئے بہت ہو جاتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ آئین ، قانون اور میرٹ کی حکمرانی ، عام آدمی کی نمائندہ جمہوریت ، مکالمے اور انصاف کے ذریعے تنازعات کا حل ، شفاف حکمرانی ، مالیاتی ڈسپلن کا نفاذ ہی ہمیںمنزل مقصود تک پہنچا سکتا ہے۔









