سعید غنی 19

جماعت اسلامی اس شہر میں نئی ایم کیو ایم بننے کی کوشش کررہی ہے،سعید غنی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اس وقت کنفیوژ ہے۔ جماعت اسلامی اس شہر میں نئی ایم کیو ایم بننے کی کوشش کررہی ہے۔

سندھ اسمبلی میں تحریک التواء کے بعد جو قرارداد آئے گی اور اس کے کے نتیجہ میں جو اس کے حق میں اور جو اس کی مخالفت میں ووٹ کریں گے عوام کے سامنے واضح طور پر بہت سے چہرے بھی بے نقاب ہوں گے اور بہت سے سیاسی جماعتوں کی سندھ سے سیاست کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ انتظامی یونٹس کی آڑ میں اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس صوبے میں 6 وزیر اعلی ہو تو سن لیں کہ صوبہ سندھ میں ایک ہی وزیر اعلیٰ، ایک ہی گورنر، ایک ہی اسمبلی اور ایک ہی کابینہ ہوگی اس کے علاؤہ کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ میں یہ بات کافی عرصہ سے کہہ رہا ہوں کہ یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ جماعت اسلامی اس شہر میں نئی ایم کیو ایم بننے کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف جلائو گھیرائو کی بات نہیں ہے اس کے علاؤہ ان کی سوچ اور طرز سیاست جو ہو گیا ہے اور جس طرح وہ کراچی میں نفرت کی سیاست کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں یہی کام ایم کیو ایم نے کیا تھا، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم آج جو حشر ہوا ہے اور جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس کی بنیادی وجہ اور سبب بھی یہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بجائے ان سے کچھ سبق سیکھنے کے وہ شاید بہت جلدی لوگوں کو اکسا کر اپنی سیاست کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ جس طرح انہوں نے آج ہڑتال کی کال دی ہے اور جس طرح انہوں نے جلائو گھیرائو کیا ہے وہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے اور یہ ایک غیر سیاسی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ ان کی کال پر عوام لبیک کرے گی تو پھر آپ کو لوگوں کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

لیکن اس کے برعکس جلائو گھیرائو کرکے لوگوں میں خوف و حراس پھیلانا یہ سیاسی دہشتگردی کے مترادف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پچھلے تین دنوں سے سندھ اسمبلی میں جو باتیں ہورہی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ باتیں سننے کے بعد کسی کے ذہن میں یہ غلط فہمی نہیں رہ جانی چاہیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اس اسمبلی میں بیٹھے ہوئے اس کے ارکان اس صوبے میں کسی قسم کی تقسیم نہیں چاہتے اور پیپلز پارٹی کو اس ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور آئین میں ہے کہ کسی بھی صوبے کی دو تہائی اکثریت اگر کوئی نیا صوبہ یا صوبے کی حدود میں تبدیلی ہونی ہے وہ کرسکتی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس اسمبلی میں اس سے قبل بھی چھ سے سات مرتبہ قرارداد منظور کرچکی ہے کہ کسی بھی نئے صوبے کی بات کی ہو اس کی مخالفت کی ہے اور اس بار بھی انشائ اللہ مجھے امید ہے کہ اسمبلی بہت بڑی بھاری اکثریت سے قرارداد لائے گی بھی اور منظور کرے گی، جس میں یہ کہا جائے گا کہ صوبہ سندھ میں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کے نتیجہ میں جو اس کے حق میں اور جو اس کی مخالفت میں ووٹ کریں گے وہ عوام کے سامنے واضح طور پر بے نقاب ہو جائیں گے اور بہت سے چہرے بھی بے نقاب ہوں گے اور بہت سے سیاسی جماعتوں کی سندھ سے سیاست کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہر صوبے کی اسمبلی کا حق ہے کہ وہ نئے صوبوں کی قرارداد منظور ہو مسترد کرتے۔ پنجاب اسمبلی میں اگر وہاں کسی دو نئے صوبوں کو بنانے کی قرارداد کو منظور کیا تھا تو پنجاب کی اسمبلی جو وہاں کے منتخب نمائندوں کی اسمبلی ہے اس کا یہ اختیار ہے کہ وہ یہ کرے۔ انہوں نے قرارداد منظور کی ہے وہ نئے صوبے بنانا چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے کہ ان کا معاملہ ہے میرا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں صوبہ سندھ کا شہری ہوں، صوبہ سندھ کے لوگوں کا ایک منتخب نمائندہ ہوں اور اس اسمبلی میں بیٹھا ہوں جو اس صوبے کے عوام کی نمائندگی کررہی ہے اور ہم نے اس ایوان میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ اس صوبے میں دیگر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں بشمول ایم کیو ایم نے بھی متعدد بار ماضی میں صوبہ کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔ ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ پاکستان اور سندھ میں علیحدگی پسند اور قوم پرست جماعتوں کی رہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان پیپلز پارٹی ہے اور مجھے اس صوبے کے عوام پر فخر ہے کہ یہاں جب جب صوبے میں انتخابات ہوئے ہیں ، سندھ کی عوام نے واضح اکثریت سے علیحدگی پسند اور قوم پرستوں کو مسترد کیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا ہے۔

پیپلز پارٹی صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ انتظامی یونٹس کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے لیڈر جو آپس میں لڑتے رہتے ہیں وہ باہر واضح طور پر کہتے ہیں کہ صوبے بننے چاہیے اور آئین میں جو طریقہ کار موجود ہے اس کو تبدیل ہونا چاہیے، جس کا مطلب ہے کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ آئین کے تحت وہ صوبے نہیں بنا سکتے اس لئے وہ نیا آئیڈیا لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں بیٹھے ایم کیو ایم کے ارکان واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے تو ان سے کہتا ہوں کہ واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں تو پھر ایک طرف پوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو ایڈمنسٹریشن یونٹس کی بات کررہے ہیں تو ہمارے مختلف قوانین میں اس حوالے سے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریشن یونٹس ڈویڑن، ڈسٹرکٹ ہوتے ہیں تعلقہ ہوتے ہیں سب ڈویڑن ہوتے ہیں، اسی طرح بلدیاتی قانون میں اس کے ادارے بنے ہوئے ہیں اگر وہ اس پر بات کرنا چاہتے ہیں کہ ڈویڑن بڑھنے چاہیے، ڈسٹرکٹ بڑھنے چاہیے، تعلقہ بڑھنے چاہیے اس پر بات ہوسکتی ہے۔

لیکن اگر وہ انتظامی یونٹس کی آڑ میں یہ چاہتے ہیں کہ یہاں 6 وزیر اعلیٰ ہو جائیں تو یہ سن لیں کہ یہاں وزیر اعلیٰ سندھ بھی ایک ہی ہوگا، گورنر سندھ، سندھ اسمبلی اور کابینہ بھی ایک ہی ہوگی اس کے علاؤہ کوئی بات کرنا ہے تو وہ کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی یہ چاہتا ہو کہ انتظامی یونٹس کی بات کی آڑ میں ان کے دل میں یہ خناش بھرا ہو کہ وہ کوئی اور نظام نکالنا چاہتے ہوں تو پیپلز پارٹی واضح طور پر کہنا چاہتی ہے کہ پہلے اس طرح کی کوئی بات قابل قبول تھی اور نہ آئندہ ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں