جانداروں کے تحفظ

جانداروں کے تحفظ کی کامیابیوں کی مثال لے کر چین کی ماحولیاتی تہذیب کی ترقی پر ایک نظر

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کے جنوبی صوبہ یون نان میں جنگلی ہاتھیوں کی شمال کی طرف ہجرت داستان کی طرح معلوم ہوتی ہے، جس نے گزشتہ سال دنیا بھر کی توجہ مبذول کروائی تھی، حال ہی میں چین کے چھنگھائی-تبت سطح مرتفع پر رہنے والے تبتی ہرنوں نے اپنی سالانہ طویل نقل مکانی شروع کی ، جو ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق تبتی ہرن چین کے قومی اولین درجے کے محفوظ جانداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ چھنگھائی۔ تبت سطح مرتفع پر متعدد قدرتی محفوظ علاقوں میں رہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں چین نے تبتی ہرن کی افزائش اور نقل مکانی کے لیے امدادی و حفاظتی کوششوں کو بھر پور انداز میں جاری رکھا جس کے نتیجے میں تبتی ہرنوں کی تعداد پچھلی صدی کی سنہ اسی اور سنہ نوے کی دہائیوں کے 70,000 سے بڑھ کر تقریباً 300,000 تک پہنچ چکی ہے، اور اس کے تحفظ کی درجہ بندی کو بھی “معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار انواع” سے ” خطرے سے دوچار انواع” تک گھٹا دیا گیا ہے، جسے بین الاقوامی برادری نے “انسانوں کی شرکت کے ذریعے حیاتیاتی انواع کے تحفظ کی کامیاب مثال” کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

تبتی ہرن کی طرح، چین میں بہت سے جنگلی جانداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب ان جانداروں کے نام معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار جانداروں کی فہرست سے خارج کردئیے گئے ہیں ۔ ان میں پیارے پانڈا اور انتہائی نایاب پرندے کریسٹڈ ابیس شامل ہیں ۔ اب تک، چین میں سینکڑوں نایاب اور معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار جنگلی جانداروں کی مصنوعی افزائش کی مستحکم آبادی قائم کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، ایشیائی ہاتھیوں کی جنگلی آبادی، جو گزشتہ سال ان کی من مانی شرارتی ہجرت کی وجہ سے بہت مقبول ہوئی تھی، بڑھ کر 300 سے زائد ہو گئی ہے۔ ان کامیابیوں کے پیچھے حکومت کی کوششوں سے عوام میں ماحولیاتی تہذیب کے حوالے سے مسلسل بہتر ہونے والا تصور اور انسان اور فطرت کے ہم آہنگ بقائے باہمی کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی ہے۔ اول، سب سے اہم بات یہ ہے کہ چینی حکومت ماحولیاتی تحفظ کے تصور کو بہت اہمیت دیتی ہے۔

چین نے 41 سال قبل ” خطرے سے دوچار جنگلی حیوانات اور نباتات کی بین الاقوامی تجارت کے کنونشن” میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 2019 میں، چینی حکومت نے “قومی پارکوں کے ساتھ قدرتی ذخائر کے نظام کو قائم کرنے کا منصوبہ” جاری کیا اور جانداروں اور ماحولیاتی تحفظ کےتعاون کی بین الاقوامی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مثلاً چین نے ہاتھی دانت کی درآمد پر پابندی لگائی، ہاتھی دانت کی گھریلو منڈی کو بند کر دیا، جنگلی جانوروں کے اندھا دھند شکار پر پابندی عائد کی، اور جنگلی جانوروں اور پودوں کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جس سے چین کے ماحولیات اور خطرے سے دوچار جانداروں کے تحفظ میں غیر معمولی پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔

دوم، جانوروں کے تحفظ کے تصور کی عوام میں قبولیت میں مسلسل بہتری آئی ہے، اور ماحولیاتی تحفظ کی تعلیم چین کی بنیادی تعلیم کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔ مثال کے طور پر، چین کی وزارت تعلیم نے “پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں ماحولیاتی تعلیم کے نفاذ کے لیے رہنما گائیڈ ” جاری کی ہے، جس میں ماحولیاتی تحفظ کی تعلیم کے مواد سے لے کر طریقوں اور اہداف تک تفصیلی ضوابط وضع کیے گئے ہیں۔ چنانچہ چینی سوشل میڈیا پر لوگ اکثر ایسی ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں جن میں چھوٹے بچے بڑوں کو جانوروں کی دیکھ بھال اور ماحولیاتی تعلیم دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بچوں سے لے کر بڑوں تک ،ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات میں تمام لوگوں کی پوری طرح شمولیت کی وجہ سے چین کی ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں میں حیرت انگیز ترقی اور کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ، اور یون نان میں ایشیائی ہاتھیوں کا “فری ٹریول” اور دریائے یانگسی کے ” ڈولفنز خاندان کا دریائے ہان جانگ کا سفر ” جیسی “اینیمل فینٹسی رافٹنگ” کی کہانیوں کا ایک سلسلہ سامنے آیا ہے۔

میرا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ زمین اور اس کا ماحولیاتی نظام یہاں کی تمام حیاتیاتی انواع کا مشترکہ گھر ہے اور انسانوں سمیت کسی بھی نوع کو اعلیٰ مقام اور بالاتر حقوق حاصل نہیں ہیں۔ بلاشبہ، تمام انواع میں سب سے ذہین ، اور زمین کی تقدیر کو کنٹرول کرنے والی قسم کی حیثیت سے، انسان کے پاس زمین سے زیادہ سے زیادہ کچھ مانگنے کا حق نہیں ہے، اور نہ ہی دوسری نسلوں کو زندہ رہنے اور مارنے کا اختیار ہے، بلکہ یہ انسان کی ذمہ دارہے کہ وہ قدرت کی طرف سے دی گئی ذہانت اور صلاحیتوں کے سہارے ، اس کرۂ ارض کے مستقبل کے لیے سوچے اور عمل کرے ۔ انسان کو فطرت کے ساتھ جو رویہ اختیار کرنا چاہیے وہ تکبر ، خود غرضی اور ضرورت سے زیادہ تقاضوں کے بجائے تعظیم، عاجزی اور عنایت کا ہونا چاہیے۔