لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے اور آئین کے مطابق مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام دشمن بجٹ پیش کیا گیا تو جماعت اسلامی ملک گیر احتجاجی تحریک، ہڑتال اور دیگر آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوگی۔
منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں سمیت دیگر افراد کی رہائی کے لیے حکومت فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کو خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں بحفاظت وطن واپس لایا جائے۔ نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عطا الرحمن، امیر پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری، امیر لاہور ضیا الدین انصاری ،ڈپٹی سیکرٹریز نذیر احمد جنجوعہ، اظہر اقبال حسن، اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے فلسطین میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں قتل عام جاری ہے دوسری طرف ہمارے وزیراعظم ٹرمپ کو امن کا پیامبر گردانتے نہیں تھکتے ۔انھوں نے امریکی صدر کے بارے میں دیے گئے بیانات کو قومی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے قتل عام کے ذمہ دار عناصر کی حمایت کرنے والوں کو امن کا علمبردار قرار دینا مناسب نہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی وصول کرکے عوام کا استحصال کر رہی ہے، پٹرولیم لیوی کے ذریعے اب تک ہزاروں ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں لیکن ریفائنریوں کی بہتری اور توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات نہیں کی گئیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں کم از کم تین سال کے لیے منجمد کی جائیں تاکہ معیشت کو سہارا مل سکے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں مزید ٹیکسوں کا نفاذ معیشت، صنعت اور عوام کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ماہانہ آمدنی تک تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے جبکہ دیگر تنخواہ دار افراد کے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔انہوں نے پنجاب سمیت مختلف صوبوں میں سرکاری تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز کی آؤٹ سورسنگ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں نجی شعبے کے سپرد کر رہی ہے، جس سے تعلیم اور صحت کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔امیر جماعت اسلامی نے چینی، کپاس اور زرعی شعبے سے متعلق حکومتی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث کسان، صنعت اور عام صارفین سب متاثر ہو رہے ہیں جبکہ مافیاز کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل مزید آئینی و انتظامی تجربات میں نہیں بلکہ بااختیار مقامی حکومتوں میں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے مستقل اور خودمختار نظام کی ضمانت دی جائے اور انہیں مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات منتقل کیے جائیں۔ایک سوال کے جواب میں حافظ نعیم الرحمن نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو غربت کے خاتمے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو خیرات کے بجائے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے سولر صارفین پر مجوزہ اضافی بوجھ اور ٹیکسوں کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ مہنگی بجلی کے باعث لوگوں نے سولر نظام اختیار کیا، اب انہیں سزا دینا کسی صورت درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل پر بھرپور مہم چلا رہی ہے اور اگر حکومت نے عوامی مفادات کے خلاف بجٹ پیش کیا تو جماعت اسلامی ملک گیر احتجاج اور عوامی تحریک کا اعلان کرے گی۔









